خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 175
خطبات طاہر جلد ۲ 175 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء ایکٹر پر کئی کی کاشت کی گئی اور ان کی اوسط پیداوار ایک سو بیس من فی ایکڑ کے حساب سے بنی۔یہاں تو ایک کھیت میں بھی اگر پورا زور لگا ئیں تب بھی ہم وہاں نہیں پہنچ سکتے لیکن امریکہ میں جن علاقوں میں مکئی کاشت کی جارہی ہے وہاں نسبت ایک اور سات سو کے قریب قریب پہنچ رہی ہے۔اسی طرح گندم کی کاشت کے سلسلہ میں بھی نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں اور ہر گز بعید نہیں کہ بہت جلد ہر قسم کے بیچ کا ہر دانہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی قدرتوں کے نتیجہ میں بالآخر سات سو گنا زیادہ پھل دینا شروع الله کر دے۔لیکن تعجب کی بات ہے کہ آنحضور ﷺ کے زمانہ میں تو اس کا کوئی تصور ہی موجود نہیں تھا بلکہ انسان کی سوچ اس کے قریب ترین بھی نہیں پھٹکی تھی۔اس وقت قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا اور اس میں ایک پیشگوئی بھی ہے کہ مستقبل میں انسان ایک دانہ سے سات سو دانے اگانے پر دسترس حاصل کر لے گا اور جب اسے اس پر قدرت دی جائے گی تب اس کی توجہ ہم اس بات کی طرف مبذول کرواتے ہیں کہ وہ خدا جو دنیا میں تم سے یہ معاملہ کر رہا ہے تو پھر کیوں یہ یقین نہیں کرتے کہ جب تم اس کی خاطر اس کے سپر دا پناروپیہ کرو گے تو وہ اسے کئی گنا زیادہ بڑھانے کی طاقت رکھتا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جو خدا تعالیٰ ان آیات میں بیان فرما رہا ہے۔دنیا کا جو ظاہری اقتصادی نظام ہے اس کے قوانین میں سے کوئی بھی قانون اسلامی اقتصادی نظام میں کام نہیں کر رہا۔ہاں قانون قدرت کی طرف ضرور توجہ دلائی ہے اور وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ بے حد فضلوں والا ہے اور بے حد کرم کرنے والا ہے۔ہر انسان کا خدا کی ذات سے معاملہ ہے۔مومن کیا اور کافر کیا ہر ایک خدا کے فضلوں پر ہی پنپ رہا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کے قوانین میں یہ طاقت نہ ہو کہ ایک چیز بڑھ کر سینکڑوں گنا ہو جائے تو انسانی زندگی تو کیا حیوانی زندگی بھی اس دنیا سے ناپید ہو جائے۔یہ ایک قانون قدرت ہے جس میں ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا فضل خاموشی سے کام کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ہم اسے بغور دیکھتے ہی نہیں محسوس ہی نہیں کرتے۔ہر دفعہ جب زمیندار جھولی میں بھر کر کھیتوں میں دانے پھینکتا ہوا پھر رہا ہوتا ہے تو وہ اکثریہ نہیں سوچتا کہ میں یہ کیا حرکت کر رہا ہوں، اپنے ہاتھوں مٹی میں دانے رول رہا ہوں اس لئے کہ غیر شعوری طور پر اس کو خدا کی رحمت پر کامل یقین ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ خدا رحیم ہے، بار بار رحمت اور فضلوں کو لے کر آنے والا ہے اور میں جو چیز اس کے قانون قدرت کے سپر د کر دوں گا وہ کم ہو کر واپس نہیں آئے گی لازماً زیادہ ہو کر واپس آئے گی اور