خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 158
خطبات طاہر جلد ۲ 158 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۳ء کو اپنے مرکز میں آنے اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کی دعوت دیں گے تو گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں لازماً ہمیں آئندہ بہت زیادہ مہمانوں کے لئے انتظام کرنا ہوگا۔یہ تو وہ اندازے ہیں جو پھیلتی ہوئی دعوت کے نتیجے میں طبعی طور پر ذہن میں آتے ہیں لیکن ایک ایسا جلسہ سالانہ بھی آنے والا ہے جسے جو بلی کا جلسہ کہہ سکتے ہیں۔اس میں ان غیر متوقع اضافوں کے علاوہ بھی کچھ اضافے متوقع ہیں کیونکہ جو بلی کا سال ایک ایسا ولولے کا سال ہوگا کہ کوئی بعید نہیں اس جلسہ پر ایسے بیمار بھی چلے آئیں جن کو لوگ چار پائیوں پر اٹھا کر لا رہے ہوں اور کوئی بعید نہیں کہ بستر پر پڑے ہوئے ایسے دوست بھی جو بے قرار ہو کر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو مجبور کر دیں کہ اگر تمہیں یہ خوف ہے کہ میرے سفر سے میری زندگی کو خطرہ لاحق ہے تو مجھے ربوہ پہنچ کر مرنے دو بجائے اس کے کہ میں یہاں اپنے گھر میں بستر پر جان دوں۔ایسے غیر معمولی ولولے اور جوش کے سالوں میں تو وہ لوگ بھی چلے آتے ہیں جو عام طور پر نہیں آتے یا نہیں آ سکتے اس کے لئے ہم نے کیا تیاری کی ہے؟ یہ ہے وہ سوال جس کی طرف میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔گزشتہ متعدد سالوں کا تجزیہ کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دن بدن جماعتی قیام گاہوں کی بجائے انفرادی قیام گاہوں میں ٹھہرنے کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے اور یہ معاشرتی تبدیلیوں کا طبعی نتیجہ ہے۔مجھے یاد ہے قادیان کے زمانے میں بہت سے لوگ یہ پسند کیا کرتے تھے کہ وہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعتی قیام گاہوں میں ٹھہریں بلکہ بہت سے احمدی جن کا عام رہن سہن کا معیار اس زمانے کے لحاظ سے بہت اونچا تھا وہ بھی پرالی اور کھوری کے اوپر لیٹ کر دیگر مہمانوں کے ساتھ اپنا وقت بسر کرنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ذکر الہی کا بہت پیارا ماحول ہوا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اصحاب دینی باتیں بیان کیا کرتے تھے۔ان کی راتیں ذکر الہی میں رچ بس جاتی تھیں اور وہ اس میں ایک غیر معمولی لذت پاتے تھے لیکن وہ ایک خاص ماحول تھا جو ان خاص دنوں کے ساتھ آہستہ آہستہ ماضی کا قصہ بن گیا۔پھر معاشرتی تبدیلیاں پیدا ہوئیں خاندانی یونٹ میں زیادہ کشش پیدا ہوگئی اور آرام طلبی زیادہ ہوگئی نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اس بات کو زیادہ پسند کرنے لگے کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہیں اور اجتماعی قیام گاہوں میں نہ جائیں۔اس رجحان کو تو اب ہم تبدیل نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری در پیش ہو اور یہ