خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 155
خطبات طاہر جلد ۲ 155 ضرورت ہے۔اگر ہے تو خدا خود وہ ضرورت پوری کر دے گا۔خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء غرض ان معنوں میں آپ کو داعی الی اللہ بنا ہے اس لئے پہلے کتابوں کی طرف توجہ نہ کریں، پہلے اپنے رب کریم کی طرف توجہ کریں اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے تمام توجہ مبذول کریں۔یقیناً ہر وہ احمدی جو اپنے دل میں مطمئن ہوتا چلا جا رہا ہے کہ میں ہر روز اپنے رب کی طرف سفر کر رہا ہوں اور میرا رب مجھ سے زیادہ تیزی کے ساتھ میری طرف بڑھ رہا ہے وہ اس راستہ پر گامزن ہو چکا ہے جو کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے وہ اس راستہ پر گامزن ہو چکا ہے جہاں نہ تو کوئی غم ہوگا اور نہ کوئی خوف ہوگا یہی وہ کامیاب داعی الی اللہ ہے جس کی آواز میں شوکت عطا کی جائے گی جس کی آواز میں طاقت عطا کی جائے گی اور اسے قوت قدسیہ نصیب ہوگی اور وہ دیکھے گا کہ دنیا حیرت انگیز طور پر اس کی بات کو سنتی اور اس کی دعوت سے متاثر ہوتی ہے۔ورنہ لاکھوں بلکہ کروڑوں عالم ایسے گزرے ہیں جو عمر بھر ایک فرضی خدا کی طرف بلاتے رہے لیکن کسی نے ان کی آواز پر کان نہیں دھرا۔نہ ان کی اپنی زندگی سدھر سکی اور نہ وہ دوسروں کی زندگی کو سدھار سکے۔اب آخر پر میں ایک ایسے داعی الی اللہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو تین روز قبل ہم سے جدا ہو گیا یعنی حضرت مولوی محمد دین صاحب۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۹۰۷ء میں پہلی مرتبہ وقف زندگی کی تحریک فرمائی۔یعنی لوگوں کو اس طرف بلایا کہ اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دیں اور دین کی نصرت کے لئے حاضر ہو جائیں۔چنانچہ وہ تیرہ خوش نصیب جنہوں نے اس پہلی آواز پر لبیک کہا تھا ان میں حضرت مولوی محمد دین صاحب بھی تھے۔انہوں نے بڑی وفا کے ساتھ اس عہد کو نبھایا۔۱۹۲۳ء میں آپ کو دعوت الی اللہ کے لئے امریکہ بجھوایا گیا جہاں آپ ۱۹۲۵ء تک بڑی کامیابی کے ساتھ تبلیغی فرائض سرانجام دیتے اور دعوت الی اللہ کا حق ادا کرتے رہے۔لیکن ان دو تین سالوں کا کیا ذ کر آپ تمام عمر ایک نہایت ہی پاک نفس، درویش صفت انسان کے طور پر زندہ رہے۔کوئی انا نیت نہیں تھی ، کوئی تکبر نہیں تھا۔ایسا بچھا ہوا و جو د تھا جو خدا کی راہوں میں بچھ کر چلتا ہے۔ذکر الہی سے ہمیشہ آپ کی زبان تر رہتی تھی۔آخری سانس تک آپ داعی الی اللہ بنے رہے۔بظاہر بستر پر پڑا ہوا ایک ایسا وجود تھا جو دنیا کی نگاہ میں ناکارہ ہو چکا تھا مگر جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا جب میں سپین سے واپس آیا اور حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا، پہلی