خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 153

خطبات طاہر جلد ۲ 153 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء حسین زندگی کا سرچشمہ ہے اس کو حاصل کرنے کے بعد زندگی کی علامتیں بھی تو ظاہر ہونی چاہئیں۔آپ پیاسے لوگوں کو بلا رہے ہوں کہ ادھر آؤ پانی ہے اور زبان سوکھی ہوئی ہو، ہونٹ خشک ہوں اور گلے سے آواز نہ نکلتی ہو تو کوئی کہے گا کہ میاں تمہارے پاس پانی ہے تو تم خود ایک گھونٹ پانی کا کیوں نہیں پی لیتے۔پس اگر لوگ خدا کی طرف بلائیں اور ان کے عمل صالح نہ ہوں تو دنیا یہ کہے گی کہ خدا کی طرف بلا رہے ہو۔کیا تم اس خدا کی طرف بلا رہے ہو جس کے ماننے کے باوجود تمہارے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔تم اسی طرح ظالم ہو ، اسی طرح سفاک ہو، اسی طرح لوگوں کے حق مارتے ہو، اسی طرح جھگڑوں میں مبتلا ہو جس طرح دنیا جھگڑوں میں مبتلا ہے۔عورتیں مردوں کے حقوق ادا نہیں کر رہیں۔مرد عورتوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے۔بنی نوع انسان سے کوئی سچی ہمدردی نہیں ہے۔کوئی بیمار ہو تو دل میں دکھ محسوس نہیں ہوتا۔کوئی مصیبت میں مبتلا ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور پھر کہتے ہو کہ آؤ ہم تمہیں خدا کی طرف بلاتے ہیں۔اگر خدا کی طرف بلانے والوں کا یہ حال ہے تو پھر نہ بلانے والوں سے فرق کیا ہے۔ہم کیوں اپنی جگہ چھوڑ کر تمہارے ہاں آنے کی تکلیف کریں۔غرض یہ اس بات کا طبعی نتیجہ ہے کہ اگر عمل صالح کی شرط پر عمل نہ ہو رہا ہو تو دعوت الی اللہ کامیاب ثابت نہیں ہوتی۔عمل صالح یا اعمال صالحہ کا پیدا ہونا خدا کو حاصل کرنے کا نتیجہ ہے نہ کہ خدا کی طرف بلانے کا نتیجہ۔یہ بات میں آپ پر کھولنا چاہتا ہوں کیونکہ خدا کی طرف بلانے والے تو لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں ہوں گے جن کے اعمال گندے ہیں، جن کا کردار گواہی دیتا ہے کہ انہوں نے اس ذات سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جس کی طرف بلا رہے ہیں تو عمل صالح کی شرط سے وہ کیوں محروم ہیں اس لئے کہ وہ ایک خیالی خدا کی طرف بلا رہے ہیں ، انہوں نے پایا کچھ نہیں۔اگر پالیا ہوتا تو خدا ان کی ذات میں ظاہر ہو جاتا ، ان کی ذات میں نظر آنے لگتا۔خدا کو پانے والوں کا تو یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرتے ہیں: سر سے لے کر پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۳۳) یہ شوکت اور قوت خدا کو حاصل کئے بغیر پیدا نہیں ہوتی اس لئے داعی الی اللہ کے لئے دلیلیں