خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد ۲ 152 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء پس جس نے بھی داعی الی اللہ بننا ہے اس کے لئے تو یہ لازم ہو جائے گا کہ پہلے وہ رب کو پائے اس سے ذاتی تعلق قائم کرے نہ کہ صرف جماعتی تعلق ۔ ان دو چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ وو کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے متعلق پنجابی میں کہتے ہیں کہ جے چڑھ گئے ہیں ان کی باراتیں جاتی ہیں اور شادیاں ہو جاتی ہیں اور کچھ وہ ہوتے ہیں جنہوں نے صرف بنجے چڑھتے دیکھنا ہوتا ہے کہ ہاں کسی اور کی بارات جارہی تھی تو ہم نے بھی دیکھ لیا۔ اب ان دونوں میں تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآنی تعلیم یہ ہے کہ تم مجھے چڑھو اور پھر بلاؤ لوگوں کو اس نعمت کی طرف ۔ یہ نہ کہو کہ ہم نے بھی دیکھا ہوا ہے۔ ان کی آواز تو اسی طرح ہوتی ہے جیسے گیدڑوں کی آواز جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ رات کو جب چیختے ہیں اور شور مچاتے ہیں تو واقعہ یہ ہوتا ہے کہ ایک گیدڑ بڑے زور سے اور بڑی تعلّی سے آواز بلند کرتا ہے کہ پدرم سلطان بود، میرا باپ بادشاہ تھا۔ تو سارے گیدڑ آگے سے جواب دیتے ہیں کہ تراچه، تراچه تراچه، ترا چه ( یہ آواز اسی قسم کی آتی ہے جب گیدڑ بولتے ہیں ) کہ ہاں ہو گا بادشاہ پر تجھے کیا، تجھے کیا، تجھے کیا تو تو بادشاہ نہیں۔ پس خدا کی طرف بلانے والے ایسے لوگوں کے ساتھ بھی یہی سلوگ ہو گا اگر انہوں نے خدا کو پایا نہ ہو اور صرف یہ کہتے ہوں کہ فلاں پر خدا نازل ہوا تھا اور فلاں سے خدا نے کلام کیا تھا ، فلاں نے خدا کو پا لیا تھا اور فلاں نے خدا کو پا لیا تھا۔ ایسے لوگوں کو تو پھر دنیا یہی کہے گی کہ تراچہ، تراچہ، ترا چہ یعنی تجھے کیا، تجھے کیا، تجھے کیا۔ جب تو نے خدا کو نہیں پایا تو ہمیں کس طرح خدا سے ملا دے گا۔ جس نعمت کو تو خود نہیں پاسکا، تو ہمیں بلاتا ہے کہ ہمیں وہ نعمت دلوا دے گا یہ کتنی کھوکھلیا ھوسی اور بے معنی اور بے حقیقت آواز بن جاتی ہے لیکن کامیاب مبلغ کے لئے اس میں بے شمار حکمتوں کے پیغام ہیں ۔ اس بات میں حکمتوں کا خزانہ مخفی ہے کہ اللہ کی طرف بلاؤ اور اسے پانے کے بعد بلاؤ۔ اس کا ثبوت کیا دیا فرمایا وَ عَمِلَ صَالِحًا عجیب کلام ہے۔ کتنے تھوڑے لفظوں میں کیسی حیرت انگیز باتیں بیان فرما دیتا ہے۔ میں نے جو یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا کی طرف بلاؤ اور اسے پانے کے بعد بلاؤ بغیر اسے حاصل کئے نہیں بلانا۔ اس کا ثبوت کیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے جو اگلا کلمہ بتا رہا ہے که حاصل شدہ نتیجہ کو پیش کرو۔ اور وہ کیا ہے وہ وَ عَمِلَ صَالِحًا ہے۔ اگر خدا کو تم نے پایا ہے تو اس کا حسن تم میں بھی تو پیدا ہونا چاہئے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کو پالیا ہو اور اسی طرح بدصورت اور بد زیب، بے حقیقت اور کر یہہ المنظر انسان بنے رہو۔ اللہ تعالیٰ تو ایک عظیم الشان طاقت اور ایک