خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 138

خطبات طاہر جلد ۲ 138 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۳ء آخری ذریعہ ان معنوں میں کہ اگر یہ بھی ناکام ہو جائے تو دنیا نے لازماً ہلاک ہونا ہے۔پھر اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔اور آخری ذریعہ ان معنوں میں کہ اگر یہ کامیاب ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کو اس قسم کی ہلاکت کا کوئی خوف ایک لمبے عرصے تک دامنگیر نہیں ہوگا۔یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔اسی لئے میں بار بار یہ اعلان کر رہا ہوں کہ داعی الی اللہ بنو، دنیا کو نجات کی طرف بلاؤ، دنیا کو اپنے رب کی طرف بلاؤ، ورنہ اگر بے خدا انسان کے ہاتھ میں دوسروں کی تقدیر چلی جائے تو ان کی ہلاکت یقینی ہو جاتی ہے اور اس وقت امر واقعہ یہی ہے۔نہ صرف یہ کہ بے خدا انسان کے ہاتھ میں لوگوں کی تقدیر گئی ہوئی ہے بلکہ اس کے ہاتھ اتنے مضبوط ہو چکے ہیں اور ان میں ایسے خوفناک ہتھیار آچکے ہیں کہ وہ جب بھی چاہے دنیا کے تمام انسانوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔چنانچہ جب آئن سٹائن سے پوچھا گیا کہ تیسری عالمگیر جنگ کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی؟ ( یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کا واقعہ ہے ) تو اس نے یہ جواب دیا تھا کہ تیسری جنگ کے ہتھیاروں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہوں گا لیکن میں یہ بتادیتا ہوں کہ چوتھی جنگ ڈنڈوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی۔مطلب یہ تھا کہ تیسری جنگ کے ہتھیا راتنے خوفناک ہو چکے ہوں گے کہ انسان نہ صرف بحیثیت انسان اس دنیا سے تقریباً مٹ چکا ہوگا بلکہ اس کی تمام سائنسی ترقیات ، تمام ماحصل، تمام تہذیب غرضیکہ ہر چیز فنا ہو چکی ہوگی۔جو لوگ بچیں گے وہ شاید پتھر کے زمانہ کے لوگ ہوں یا غاروں اور پہاڑوں میں بسنے والے لوگ۔ان کی لڑائی تو پتھروں اور ڈنڈوں سے ہی ہوگی کیونکہ اس سے زیادہ ہماری تہذیب میں سے کچھ بھی ان کو حاصل نہیں ہوگا اور ہمارے علم میں سے کچھ بھی ان تک نہیں پہنچا ہوگا۔تمام علمی خزانے مٹ چکے ہوں گے، تمام سائنسدان تباہ ہو چکے ہوں گے اور تمام تہذیبوں کے سرچشمے ختم ہو چکے ہوں گے۔بچا کھچا انسان جو اس وقت غاروں یا جنگلوں میں بس رہا ہو گاوہ ان چیزوں سے بے بہرہ ہو گا اس لئے اس کی لڑائی اس قدیم زمانے کی طرف واپس لوٹ جائے گی جو پتھروں یا غاروں کا زمانہ کہلاتا ہے۔ان حالات میں ایک احمدی پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو پورے شعور، پوری بیداری اور بیدار مغزی کے ساتھ ادا کرنا پڑے گا کیونکہ اب وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت احمد یہ ساری دنیا میں فعال ہو جائے اور تیزی کے