خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 137

خطبات طاہر جلد ۲ 137 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۳ء یہ آرڈر جاری ہو رہے ہیں کہ بموں نے نہیں چلنا نہیں چلنا نہیں چلنا۔اگر کسی وقت وہ کمپیوٹر زخراب ہو جائیں یا وہ علاقے اچانک تباہ کر دیئے جائیں تو یہ سارے بم از خود چل پڑیں گے۔پھر ان کو کوئی روک نہیں سکے گا۔اس لئے حملہ آور ملک کو بھی یقین ہو چکا ہے کہ اگر میں حملے میں ابتدا بھی کرلوں اور اچانک پن، جس کو "Surprise" کہتے ہیں اس کے سارے فوائد مجھے حاصل ہو جائیں تب بھی میرے خلاف اتنے بم ضرور چل جائیں گے جن سے میرا اکثر حصہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔یہ وہ خوف ہے جو اس وقت جنگ کو روکے ہوئے ہے اور یہ خوف دونوں فریقوں کو لاحق ہے اس لئے دونوں طاقتیں یہ کوشش کر رہی ہیں کہ وہ کوئی ایسی حیرت انگیز ایجاد کریں جس کے نتیجے میں انہیں ایک دوسرے پر نمایاں فوقیت حاصل ہو جائے۔یعنی اگر ان میں سے کوئی لڑائی میں پہل کرے تو اسے یہ یقین ہو کہ وہ جوا بانتباہ و برباد نہیں ہو سکے گا۔جس وقت کسی بلاک کو یہ فوقیت حاصل ہوگئی اس وقت دنیا کے امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔کہتے ہیں ایک بادشاہ نے ایسی تلوار بنائی ہوئی تھی جو ہر وقت اس شخص کے سر پر لٹکی رہتی تھی جو بادشاہ کے سامنے بیان دے رہا ہوتا تھا۔جب بھی اسے شک پڑتا کہ یہ شخص غلط بیانی کر رہا ہے تو بادشاہ کے اشارے پر وہ تلوار گر جاتی تھی۔وہ باریک سا دھاگہ جس سے تلوار لٹکی ہوتی تھی اس کو کاٹ دیا جاتا تھا اور وہ اس کو ہلاک کر دیتی تھی۔آج اس سے بھی زیادہ باریک دھاگے کے ساتھ ساری انسانیت کی ہلاکت کی تلوار اس کے اوپر لٹک رہی ہے۔سارے انسانوں کی ہلاکت کی تلوار کیوں باریک تر دھاگوں سے لٹکی ہوئی ہے؟ اس لئے کہ دونوں طرف اخلاق، انسانیت، انصاف اور خوف خدا کا کوئی تصور نہیں ہے۔خالصہ مادہ پرستی کے موجبات اور اسباب ہیں جو حملے پر آمادہ کر رہے ہیں یا حملے سے روک رہے ہیں۔اخلاقیات کا اس میں کوئی دخل نہیں۔خدا تعالیٰ کے خوف کا اس میں کوئی دخل نہیں۔سو فیصد خود غرضی پر مبنی خیالات اور سوچیں ہیں جنہوں نے بالآخر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ جنگ شروع کرنی ہے یا نہیں۔ایسے خطرناک دور میں جب کہ انسان کی تقدیر لا مذہبی طاقتوں کے ہاتھ میں جاچکی ہو، احمدیت پر کیا ذمہ داریاں آتی ہیں؟ یہ ہیں وہ باتیں جو ہر احمدی کو سوچنی چاہئیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ احمدیت دنیا کو ہلاکتوں سے بچانے کا آخری ذریعہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔