خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 135
خطبات طاہر جلد ۲ 135 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۳ء یہ ہے کہ انسانی زندگی کا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری کردہ ایک خاص پروگرام کے تابع کام کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس ذرے کے اندر ارب ہا ارب معلومات چھاپی ہوئی ہیں اور ہدایات کا جواندرونی نظام ہے وہ اس کے تابع کام کرتا ہے۔الغرض یہ اہریں ان ذروں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور اس پروگرام کو تباہ کر دیتی ہیں۔نتیجہ زندگی کا سارا نقشہ بدل جاتا ہے۔چنانچہ جو لوگ ان بموں کے اثرات سے بعد میں متاثر ہوئے ان کے ہاں اتنے مگر وہ اور بد ہیئت بچے پیدا ہوئے جن کو دیکھ کر بھی گھن آتی تھی اور خوف محسوس ہوتا تھا۔کسی کے پیٹ میں آنکھیں نکل آئیں تو کسی کے سر پر۔ان لہروں نے زندگی کا تمام نظام درہم برہم کر دیا۔بعض لوگوں پر بظاہر ان لہروں کے کوئی اثرات نظر نہیں آرہے تھے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسے اثرات بھی ظاہر ہوئے جن سے اگلی نسل متاثر ہوئی اور نہایت خوفناک قسم کے بچے پیدا ہونے لگے۔تب ان کو پتہ چلا کہ جو ہتھیار ایجاد ہوئے ہیں ان کا کتنا خوفناک اثر انسانی زندگی پر پڑ سکتا ہے۔جو مر گئے وہ تو بعد کے اثرات کو نہ دیکھ سکے لیکن جو زندہ بچ رہے انہوں نے ان بموں کے بہت ہی خوفناک اثرات دیکھے جو ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے تھے۔چنانچہ بعض لوگوں کے جسم گل گئے، بعض کے بال جھڑ گئے ، بعض کے ناخن گل گئے ، بعض کے جگر تباہ ہو گئے اور کئی ایک کی آنکھیں جاتی رہیں۔الغرض انسان کو ایسے مختلف عوارض لاحق ہو گئے جن کا علاج انسان کے بس میں نہیں تھا۔کیونکہ ریڈیائی بیماریوں سے جو اثرات پیدا ہوتے ہیں وہ اتنے خوفناک ہوتے ہیں کہ انسان دوسرے ذرائع سے ان کا علاج کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتا۔یہ اثرات اس ایک بم کے ہیں جو ہیروشیما پر گرایا گیا تھا اور جو آج ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے اس لئے کہ آج کی دنیا میں جو نائیٹروجن بم اور ہائیڈ روجن بم ایجاد ہوئے ہیں وہ اتنے طاقتور ہیں کہ ایک شہر یا دو شہروں کو تباہ کرنے کا سوال نہیں ہے۔اب تو اس طرح گنتی کی جاتی ہے کہ سارے انگلستان کو تباہ کرنے کے لئے کتنے بموں کی ضرورت ہے؟ چنانچہ ایک دفعہ بموں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ہلاکت کے متعلق انگلستان کے وزیر اعظم اور امریکہ کے صدر کے درمیان گفتگو ہوئی۔انگلستان کے وزیر اعظم کی مدد کے لئے ایک سائنسدان جوان باتوں سے واقف تھا وہ بھی اس کے ساتھ گیا ہوا تھا۔گفتگو کے دوران اس نے امریکہ کے صدر سے کہا کہ اگر آج لڑائی چھڑ جائے تو آپ