خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 134
خطبات طاہر جلد ۲ 134 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۳ء روکنے کے لئے صرف ایک ہی مانع باقی ہے اور وہ ہے ہتھیاروں کا ہولناک ہونا۔یہ ہتھیار اتنے خوفناک ہو چکے ہیں اور اتنی شدت اختیار کر چکے ہیں کہ اگر ان سے ایک دفعہ لڑائی چھڑ جائے تو تمام وہ لوگ جو ان ہتھیاروں کی کنہ سے واقف ہیں اور ان کے اثرات کا کچھ تصور رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ قومیں بھی تباہ ہو جائیں جو اس لڑائی میں غالب آجائیں اور وہ بھی تباہ ہو جائیں گی جو مغلوب ہوں اور دونوں طاقتوں کے ہاتھ میں عملاً کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔پس یہی ایک خوف ہے جو اس وقت جنگ میں مانع ہے۔آپ نے ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی کے قصے سنے ہوں گے۔ان شہروں پر ایسے بم گرے تھے جنہوں نے صرف شہریوں کو ہی ہلاک نہیں کیا بلکہ ان بموں کے اثرات سے اردگرد علاقوں میں بھی انتہائی ہولناک تباہیاں پھیلیں اور سال ہا سال تک قسم قسم کی بیماریاں اور وبائیں وہاں پھوٹتی رہیں۔یہ بم ان عام بموں سے بالکل مختلف ہیں جن کا تصور دنیا کے ان ممالک میں پایا جاتا ہے جہاں غیر معمولی ترقی نہیں مثلاً پاکستان اور ہندوستان و غیرہ۔ان علاقوں کے عوام سمجھتے ہیں کہ بم سے مراد صرف یہ ہے کہ ایک دھما کہ ہوا جس کے نتیجے میں کچھ عمارتیں منہدم ہو ئیں اور کہیں آگ لگ گئی لیکن جن ہتھیاروں کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ ان سے بالکل مختلف ہیں۔چنانچہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرنے والے بموں سے جو ہلاکت ہوئی وہ وہیں ختم نہیں ہوئی کہ سارے کا سارا شہر دھپ سے اڑ گیا بلکہ انہوں نے ایسے ریڈیائی اثرات پیچھے چھوڑے جو ایسی نہ نظر آنے والی لہروں کی صورت میں موجود رہے جیسی آپ ریڈیو اور ٹیلی وژن میں دیکھتے ہیں۔آپ کو علم تو ہے کہ وہ لہریں موجود ہیں کیونکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے آپ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن صرف بصیرت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ظاہری آنکھ سے وہ نظر نہیں آرہی ہوتیں۔اسی قسم کی لہریں ان نئے بموں سے نکلتی ہیں جو انسانی زندگی کو تباہ کرنے کے لئے دو طرح سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ایک ہے براہ راست ہلاکت لیکن اس سے بھی زیادہ خوفناک اثر یہ ہے کہ انسان مرتا بھی نہیں اور زندہ بھی نہیں رہتا بلکہ بین بین حالت میں اس طرح زندگی گزارتا ہے جس طرح کینسر کا مریض اپنی بیماری کے انتہائی خطر ناک لمحات میں زندگی گزارتا ہے۔یہ لہریں انسانی زندگی کی کنہ کو تبدیل کر دیتی ہیں اور ان مرکزی خلیوں پر حملہ آور ہوتی ہیں جو اپنے اندر زندگی کا پروگرام رکھتے ہیں۔حقیقت