خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 131

خطبات طاہر جلد ۲ 131 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء ایک بات جو میں پہلے بھی مختلف جگہوں پر دوستوں کو سمجھاتا چلا آیا ہوں یہاں بھی سمجھا دوں۔دیہاتوں میں عموماً اس بارہ میں غفلت ہو جاتی ہے۔امام جب تک پوری طرح سلام پھیر کر نماز سے فارغ نہیں ہوتا اس وقت تک مقتدی اس کی اقتدا سے آزاد نہیں ہوتے۔نماز میں السلام علیکم سنتے ہی بعض لوگ فوراً در دڈ کرتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ ایک بدنظمی کا طریق ہے اور اسلامی نظم و ضبط کی روایات کے بھی خلاف ہے۔جب امام آخر میں السلام علیکم کہتا ہے تو پھر دوبارہ بائیں طرف منہ پھیر کر السلام علیکم کہ کر فارغ ہوتا ہے اس وقت اس کو بھی نماز سے اٹھنے کی اجازت ہے اور مقتدیوں کو بھی اٹھنے کی اجازت ہے اس لئے جنہوں نے بقیہ نماز پڑھنی ہو ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ پوری طرح صبر کے ساتھ بیٹھے رہیں۔اور اس سے ایک اور بھی فائدہ ہوتا ہے کہ جس صبر کی تلقین کی جارہی ہے اس صبر کی عادت بھی پڑتی ہے۔دیکھا گیا ہے جو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بے صبری کریں وہ بڑی باتوں میں بھی بے صبری کرتے ہیں۔اب امام سے پہلے اٹھنے سے کتنا وقت بچ جاتا ہے۔صرف سیکنڈز میں بچتا ہے کیونکہ دوسرا السلام علیکم اگر آپ آہستہ بھی کہیں تو تمیں پینتیس سیکنڈز میں کہا جائے گا۔یہ تمیں پینتیس سیکنڈ ز بچانے کے لئے جو لوگ افراتفری میں اٹھتے ہیں وہ دراصل اپنی فطرتی بے صبری کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔آپ دیکھیں گے کہ ان کی نمازیں بھی اکثر بے صبری میں پڑھی جاتی ہیں۔پس نماز کا نظم و ضبط بہت گہرے سبق رکھتا ہے اس لئے آپ نماز میں صبر کا نمونہ دکھایا کریں اور امام کی متابعت میں بھی صبر کا نمونہ دکھایا کریں۔اس وقت تو کوئی موقع پیش نہیں آئے گا کیونکہ میں عصر کی نماز پوری پڑھوں گا ویسے میں مسافر تو ہوں لیکن میرا یہاں گھر ہے اور جہاں گھر ہو وہاں اگر آدمی چند گھنٹے کے لئے بھی آئے تو مسافر نہیں رہتا اس لئے اس دفعہ تو انشاء اللہ سب اکٹھے ہی سلام پھیریں گے لیکن چونکہ موقع تھا اس لئے میں نے آپ لوگوں کو بتا دیا ہے۔آئندہ جب بھی کوئی ایسا موقع پیدا ہوا کرے یا آپ نماز میں بعد میں آکر شامل ہوں اور ایک آدھ رکعت رہ گئی ہو تو آپ جلدی نہ اٹھا کریں۔امام فارغ ہو جائے پھر آپ کھڑے ہوا کریں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۳ مئی ۱۹۸۳ء)