خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 129
خطبات طاہر جلد ۲ 129 خطبه جمعه ۲۵ / فروری ۱۹۸۳ء ہے جو رسول اللہ ﷺ کے بس میں نہیں ہے۔یہ صرف پیار کا اظہار ہے ورنہ خدا اس غم سے نہ روکنا چاہتا ہے نہ محمد مصطفی ﷺ نے رکنا تھا۔اس نے خود آپ کو پیدا ہی اس طرح کیا تھا اس لئے لَا تَحْزَن میں پیار اور محبت کا یہ اظہار ہے کہ تو نہ غم کر تجھے کیا ہو گیا ہے، لیکن اللہ کو پتہ ہے کہ اس نے غم میں گھلتے ہی چلے جانا ہے اور اس کے غم نے ان کی اصلاح کرنی ہے۔پس مبلغ کو یہ بھی بتا دیا کہ صبر کرنا ہے تو وہ صبر کرنا ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کیا تھا۔یہ کیسا پاک رسول ہے کہ ان لوگوں کے لئے بھی جو آپ کو دکھ دے رہے ہیں، تکلیف دے رہے ہیں دکھ تو محسوس کرتا ہے لیکن غصہ محسوس نہیں کرتا۔اور دیکھئے یہ ہے بھی کتنی معقول بات۔کیونکہ جس کو غصہ آتا ہے وہ اکثر صبر کا دامن چھوڑ ہی دیا کرتا ہے۔وہ پھر بدلہ لینے والا رستہ اختیار کر لیا کرتا ہے۔فرمایا یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ صبر کا رستہ اس لئے اختیار کیا کہ آپ کی فطرت میں اتنی زیادہ ہمدردی ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کے لئے غم تو محسوس کرتے ہیں غصہ محسوس نہیں کرتے۔صبر کے سوا اس کا کوئی چارہ کا رنہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ کہ بظاہر یہ طریق تو بڑا ہی مشکل طریق ہے اور یوں لگتا ہے کہ گویا اس سے کامیابی نہیں ہوگی۔دشمن طرح طرح کے ہتھکنڈے اختیار کر رہا ہے، طرح طرح کی تدبیریں سوچ رہا ہے۔دن رات منصوبے بنارہا ہے کہ کس طرح Movement ( تحریک چلائی جائے ، کس طرح اس جماعت کو تباہ کیا جائے اور اس پر بھی کہا جاتا ہے صبر کرو، صبر کرو، اور صبر بھی غصہ والا نہیں بلکہ غم والا صبر کرو۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے محمد ! (ﷺ) وَمَا صَبُرُكَ إِلَّا بِاللہ ہم جانتے ہیں کہ تیرا صبر صرف اللہ کی خاطر ہے اپنے رب کی خاطر ہے اس لئے وہ اب تجھے کس طرح چھوڑ دے گا جس کی خاطر تو صبر کر رہا ہے۔فرماتا ہے وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ تو اپنا سینہ کھول لے اور اس کو کشادہ کر ، ان لوگوں کے برے مکروں اور تدبیروں سے تجھے ہم کوئی بھی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔تو ہماری خاطر صبر کرنے والا ہے ہم تیرے محافظ بن جائیں گے اور ہر آن تیری حفاظت کریں گے اور تیرے سلسلہ کی اور تیرے پیغام کی حفاظت کریں گے اور لازمنا تمہیں کامیاب کریں گے۔چونکہ تیرا صبر صرف میری خاطر تھا اب میں ذمہ دار ہو گیا ہوں۔پھر فرماتا ہے إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور محسن ہوتے ہیں۔