خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 128

خطبات طاہر جلد ۲ 128 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء مصطفی ﷺ نے اختیار فرمائی ہے۔وہ غصہ والا صبر نہیں وہ غم والا صبر ہے۔غصہ تو حضرت محمد مصطفیٰ کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ان کی مثالیں ایسی ہی ہیں جیسے صبر کرنے والی ایک سوتیلی ماں اپنے سوتیلے بچوں کی بے ہودہ حرکتوں پر صبر کر رہی ہو۔اس کو طبعا اور فطرۃ بڑا غصہ آرہا ہوتا ہے لیکن وہ چونکہ مہذب ہوتی ہے، اپنے اوپر کنٹرول رکھتی ہے اس لئے وہ صبر کر جاتی ہے۔اور ایک سگی ماں ہے جو اپنے بچوں کی حرکتوں پر صبر کرتی ہے لیکن وہ غم کا صبر ہوتا ہے وہ اپنے غم میں گھلتی چلی جاتی ہے، وہ خود بھی دعائیں کرتی ہے اور دوسروں کو بھی دعاؤں کے لئے کہتی ہے۔مجھے اس صبر سے بھی آئے دن واسطہ پڑتا رہتا ہے۔مائیں آتی ہیں آج بھی کل بھی اور پرسوں بھی ، یہاں بھی جو ملاقاتیں ہوتی ہیں ان میں بھی ہر روز کئی خواتین اپنے بچوں کی بعض بے ہودہ حرکتوں کا ذکر کرتے ہوئے دعا کے لئے کہتی رہتی ہیں جب بھی وہ اس قسم کی دعا کے لئے کہتی ہیں اس میں غصہ کوئی نہیں ہوتا وہ غم میں گھل رہی ہوتی ہیں، وہ رورہی ہوتی ہیں، دعا کے لئے کہتے کہتے ان کی آواز بھرا جاتی ہے کہ بچہ ضائع ہو رہا ہے اس کے لئے دعا کریں۔پس تم نے اس کی پیروی کرنی ہے جس کے صبر میں غصہ کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔وہ تو سگی ماں والا صبر کرنے والا انسان ہے بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر صبر کرنے والا ہے۔وہ تو ان لوگوں کے غم میں اپنی جان ہلکان کر رہا ہوتا ہے جو اس کی بات کو نہ مان کر اپنا نقصان کر رہے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمُ اور یہ کہہ کر اس بے انتہا جذ بہ غم کا اظہار فرما دیا جو آنحضور ﷺ کے قلب صافی میں موجزن تھا۔ایک کہنے والے نے بہت خوب کہا ہے: کیوں ، کیا ہوا، یہ آہ شرر بار کس لئے یہ تو نہیں کہا تھا کہ تو بے قرار ہو کہ یہ کیساغم ، میں یہ تو ہیں چاہتا تھاکہ تو غمگین ہو جائے۔معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ کلام نازل ہو رہا ہے تو آنحضرت ﷺ کا دل ان لوگوں کے غم سے بھر گیا ہے جو ان ساری باتوں کے باوجود نہیں مان رہے ہوں گے اور جس کے نتیجہ میں آپ نے صبر کرنا ہے اور پہلے بھی صبر کر رہے تھے۔اچانک اللہ تعالیٰ اس مضمون کو چھوڑ کر کہتا ہے۔اے محمد غم نہ کر، تو تو بہت ہی مقدس وجود ہے، تیرا مقام بہت بلند ہے ، ان گھٹیا لوگوں کی خاطر تو اپنے نفس کو ہلاک کر دے گا۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ایک جاری سلسلہ