خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 103
خطبات طاہر جلد ۲ 103 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء بلکہ دوسرے کو موقع بہم پہنچانا کوئی معمولی قربانی نہیں ہے۔عام پیاس کے وقت بھی جب پانی آتا ہے تو آپ کسی دن اس بات کو سوچیں کہ کس طرح دل چاہتا ہے کہ ہاتھ بڑھا کر میں تو پانی پیئوں کسی اور کی پیاس بعد میں دیکھی جائے گی لیکن زخموں کی شدت میں عرب کے تپتے ہوئے صحراؤں میں یہ واقعہ گزرجانا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے مگر بکثرت ایسے واقعات ہوئے ، اجتماعی طور پر بھی ہوئے اور انفرادی طور پر بھی۔ثمامہ بن اثال قبیلہ بنو حنیفہ سے تھے اور آنحضرت ﷺ کے شدید دشمن تھے۔جب داؤ لگتا تھا مسلمانوں کا قتل و غارت کیا کرتے تھے۔وہ ایک دفعہ مسلمانوں کے قابو آ گئے۔ان کو جب آنحضرت ﷺ کے حضور پیش کیا گیا تو آپ نے یہ حکم دیا کہ ان کو مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا جائے۔آنحضور علﷺ نے اس سے پوچھا ثمامہ بتاؤ تم سے کیا سلوک کیا جائے۔اس نے کہا کہ اگر تو آپ قتل کا حکم دیں تو ایک قاتل ایک خونی کے قتل کا حکم دیں گے اور آپ معاف کر دیں تو ایک محسن کی طرح حسن سلوک کر رہے ہوں گے اور اگر فدیہ چاہتے ہیں (امیر آدمی تھا) جتنا فدیہ لینا چاہیں میں دینے کے لئے تیار ہوں۔رسول کریم ع کے بغیر جواب دیئے واپس تشریف لے گئے۔دوسرے دن بھی یہی ہوا، تیسرے دن بھی یہی ہوا، پھر حضور نے فرمایا اس کو کھول دو۔آنحضور علی کے اس ارشاد میں اگر آپ گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو حسن عمل کی ایک بڑی پیاری تصویر نظر آئے گی۔کھلنے کے بعد پہلے تو وہ خاموشی سے باہر چلا گیا، غسل کیا،صاف ستھر ہو کر آیا، کلمہ پڑھ کر مسجد میں داخل ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! آج کے دن سے پہلے میری نظر میں سب سے زیادہ مغضوب انسان آپ تھے اور آج آپ سے زیادہ محبوب آدمی میرے لئے اور کوئی نہیں۔آج سے پہلے آپ کے دین سے مجھے شدید نفرت تھی مگر آج اس سے زیادہ اچھا دین مجھے اور کوئی نظر نہیں آتا۔اور اے اللہ کے رسول ! آپ کا یہ شہر مجھے سب سے زیادہ حقیر اور ذلیل دکھائی دیا کرتا تھا اور آج یہ میری آنکھوں کا تارا بن گیا ہے۔مجھے سب سے زیادہ پیارا شہر یہ لگتا ہے۔( صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب الاغتسال اذا اسلم وربط الاسیر ایضافی المسجد - اسدالغابہ فی معرفتہ الصحابہ ذکر ثمامہ بن اثال جلدا) پس فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ کے اس واقعہ کے پیچھے ایک اور حکمت کارفرما ہے۔ایک انسان جس نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ میں احسان کا جلوہ دکھاؤں اور ساری دنیا عش عش کر اٹھے