خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 590 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 590

خطبات طاہر جلد ۲ 590 خطبه جمعه ۲۵ / نومبر ۱۹۸۳ء فرماتا ہے کہ صرف وہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں، وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں اور غیر اللہ سے نہیں ڈرتے۔دوسرے ، قرآن کریم نے ہدایت کو اللہ کے خوف کے ساتھ پابند فرما دیا اور فرمایا تم نصیحت کے ذریعہ غیر اللہ سے ڈرنے والوں کو اپنی طرف مائل کرو گے تو جب تک غیر اللہ کا خوف ان کے دلوں پر غالب ہے وہ بھی ہدایت نہیں پاسکتے۔اس لئے تبلیغ کا ایک نہایت ہی عمدہ نکتہ بیان فرما دیا اور تبلیغ کی راہ کو آسان کرنے کا ایک طریق سکھا دیا۔فرمایا صرف وہی آدمی نصیحت پکڑتا ہے جو خدا سے ڈرتا ہے اور اس کے سوا دوسرا نصیحت نہیں پکڑتا۔اس مضمون کو قرآن کریم نے بار ہا مختلف طریق پر بیان فرمایا۔چنانچہ سورہ اعلیٰ میں ہے : سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَخْشُى (آیت (1) اور سور و طہ میں ہے : سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَخْشُى (آیت:۴) کہ اے محمد! (ع) تو نصیحت تو کرتا ہے اور کرتا رہے گا لیکن تیری نصیحت سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو خوف خدا رکھتا ہے۔فرماتا ہے إِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يُخشى (طه:۴) قرآن کریم صرف اسی کے لئے کارآمد نصیحت ہے جو خدا کا خوف رکھتا ہے۔پس اس مضمون کو قرآن کریم نے مختلف جگہوں پر مختلف رنگ میں بیان فرمایا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ خدا کا خوف رکھنے والے جب اپنے دائرہ کو وسعت دیتے ہیں اور بے خوف لوگوں یا خدا کے غیر کا خوف رکھنے والوں کو اپنی طرف بلاتے ہیں تو اس وقت خدا تعالیٰ یہ نکتہ سمجھا رہا ہوتا ہے کہ پہلے خدا کا خوف ان کے دل میں پیدا کرو پھر وہ ہدایت پائیں گے، پھر وہ تمہاری نصیحت سنیں گے۔جب تک ان کے دلوں پر لوگوں کا خوف غالب ہے وہ ہدایت کو نہیں پا سکتے۔چنانچہ دنیا کا جائزہ لے کر دیکھیں ہدایت سے پیچھے رہنے کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کا خوف ہے۔بعض دفعہ قوموں کی قو میں دلوں میں کسی صداقت کی قائل ہو چکی ہوتی ہیں اور تسلیم کر لیتی ہیں کہ سچائی ان کے ساتھ ہے لیکن چونکہ غیر اللہ کا خوف غالب ہوتا ہے اس لئے وہ ہدایت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں ، ہدایت کو اختیار کرنے پر جرات نہیں پاتیں۔ان معنوں میں خوف ایک Magnet کا کام دیتا ہے، ایک مقناطیسی قوت رکھتا ہے۔یہاں جو خوف کا مضمون ہے وہ دھکیلنے کے معنوں میں نہیں ہے بلکہ کشش کے معنوں میں ہے۔مقناطیس کی دو قو تیں ہوتی ہیں ایک Repulsion یعنی دھکا دینے کی قوت اور دوسری قوت جاذبہ ہے