خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 33
خطبات طاہر جلد ۲ 33 ل لاله خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء ان سب باتوں کے باوجود بعض بیماریاں ایسا گہرا اثر کر جاتی ہیں کہ وہ ایک قسم کا کینسر بن جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ ان کا بھی ذکر فرماتا ہے یعنی پچھلی ساری برائیاں اور داغ اگر دھو بھی دیئے جائیں تب بھی بعض لوگوں کی بیماریاں ان کا احاطہ کر لیتی ہیں ایسی صورت میں پھر ان پر اللہ کا رنگ نہیں چڑھ سکتا۔وہ نصیحت کو قبول نہیں کر سکتے۔چنانچہ فرمایا: بَلَىٰ مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَيْكَ أصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة :٨٢) که ان سب باتوں کے باوجود کچھ بدقسمت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی بیماری عادت بن کر ، فطرت ثانیہ بن کر ان کی ذات کا جزو بن جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کی بجائے کہ ذات کا جزو بن جاتی ہے بہت ہی پیارا کلمہ اختیار فرمایا کہ اَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ بیماری ان پر گھیرا ڈال لیتی ہے اور یہ گھیرا توڑ کر کوئی نکل نہیں سکتا۔فوج میں جب کسی دوسری فوج کو مغلوب کرنا ہو تو گھیرا ڈالا جاتا ہے اسی طرح بیماری انسان پر ایسا سخت گھیرا ڈال لیتی ہے کہ وہ تو ڑ کر باہر نہیں جاسکتے۔ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ جس طرح بیماری نے ان پر گھیرا ڈال لیا اور ان کی بدی میں ایک ابدیت آگئی عذاب جہنم میں بھی ایک ابدیت پیدا کر دی جائے گی اور ان کی سزا بھی اسی طرح جاری وساری ہوگی۔چنانچہ آنحضور ﷺ نے اس مضمون کو کشفی طور پر مختلف صورتوں میں دیکھا۔آنحضور ﷺ کو جب کشفی نظارے کے طور پر جہنم دکھائی گئی تو آپ نے ایک ایسے تنور کو بھی دیکھا جس میں آگ بھڑک رہی تھی اور اس میں جلنے والا باہر نکلتا تھا اور پھر اس میں پڑ جاتا تھا ، باہر نکلتا تھا اور پھر اس میں پڑ جاتا تھا۔اس پر جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو بتایا کہ یہ وہ بد کردار شخص ہے جو بد کرداری کا اتنا شکار ہو چکا تھا کہ اس سے الگ نہیں ہو سکتا تھا۔شہوانی جذبہ پورا ہو گیا تو وہ تو بہ کی طرف مائل ہو گیا، دوبارہ عود کر آیا تو پھر گناہ میں ملوث ہو گیا تو جس طرح اس کی زندگی کی حالتیں تھیں وہی موت کے بعد اس کی حالتیں تبدیل کر دی گئیں اور ایسا ہوتا ہے۔غالب کہتا ہے: رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم دھوئے دھتے جامہ احرام کے (دیوان غالب صفحہ) ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں۔اور بعض دفعہ دونوں حالتیں بے اختیاری کی ہو جاتی ہیں۔جب