خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 379 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 379

خطبات طاہر جلد ۲ 379 خطبہ جمعہ ۱۵ر جولائی ۱۹۸۲ء نہ ہوں اور جزع فزع نہ کریں اور صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں۔اور جب ان کو خیر ملے تو اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ غیروں تک پہنچا ئیں۔یہ دو صفات حسنہ قرآن کریم کی رو سے عبادت کرنے والوں کے حصہ میں آتی ہیں لیکن ان عبادت کرنے والوں کے حصہ میں جو اپنی عبادتوں کو دوام بخشتے ہیں۔یہ ان آیات کے مضمون کا خلاصہ ہے۔ابھی ہم نے ایک نہایت ہی بابرکت رمضان کی لذت اٹھانے کی سعادت پائی ہے۔اس مبارک مہینے میں جو لوگ پہلے عبادت نہیں کیا کرتے تھے ان میں سے بھی بکثرت ایسے تھے جنہوں نے عبادت شروع کر دی۔وہ جو پہلے تم کی زندگی بسر کر رہے تھے انہوں نے محض اللہ خود مشکلات برداشت کیں اور دیکھا کہ مشکل ہوتی کیا ہے ، مصیبت کس کو کہتے ہیں؟ لیکن یہ مصیبت طوعی تھی محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے برداشت کی گئی۔چنانچہ انسانی نفس کی تربیت کا یہ سب سے بہتر موقع تھا۔ایک مہینہ مسلسل ان پر یہ کیفیت طاری رہی کہ هُم عَلى صَلَاتِهِمْ دَابِمُونَ اور بڑی توجہ سے انہوں نے ان باتوں پر دوام اختیار کیا یعنی ایک مہینے کے دوران ان کو عبادت میں دوام نصیب ہوا اور ایک مہینے کی عبادت ایک اچھی خاصی موثر عبادت ہونی چاہئے۔بعض عبادتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے ایک عبادت ہی انسانی زندگی کا رنگ بدل دیتی ہے کجا یہ کہ ایک مہینہ مسلسل پانچ وقت عبادت کی جائے اور پھر رمضان کی سختی کا تجربہ بھی ہوا۔رمضان سے وہی لوگ کامیابی کے ساتھ نکلے ہیں جو قرآن کریم کی ان آیات کے مطابق ان دو مقابل کی صفات کے حامل بن چکے ہیں جو جَزُ دُعا اور مَنُوعًا کے مقابل پر اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائی ہیں یا عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھا۔پس اگر انسان نے اپنے نفس میں یہ جانچنا ہو اور اس بات کا محاسبہ کرنا ہو کہ اس رمضان مبارک سے میں کیا پا کر نکلا ہوں اور کیا کھو کر نکلا ہوں تو یہ آیت ایک بہت ہی خوبصورت اور حسین پیمانہ اس کے سامنے رکھتی ہے۔اگر رمضان مبارک کے بعد اس کی عبادات کو دوام حاصل ہو گیا ہے ایسا دوام کہ جو ایک مہینے کی حدیں پھلانگ کر بھی آگے جاری رہتا ہے، اگر رمضان مبارک کے بعد اس کو دکھوں کے احساس میں صبر کرنے کا سلیقہ آگیا ہے، اگر کوئی دکھ اس کو مایوس نہیں کر سکتا، اگر رمضان مبارک کے بعد وہ پہلے سے زیادہ بنی نوع انسان کا ہمدرد بن چکا ہے تو اسے مبارک ہو کہ قرآن کریم کی یہ آیات اسے ہمیشگی کی فلاح کی خوشخبری دے رہی ہیں۔اگر کوئی انسان ان سے عاری