خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 156

خطبات طاہر جلد ۲ 156 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء بات انہوں نے مجھے یہی کہی کہ میں سپین کے مشن کی کامیابی کے لئے اور آپ کے دورہ کی کامیابی کے لئے مسلسل دعائیں کرتا رہا ہوں۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ کی دعائیں مجھے پہنچتی رہی ہیں اور میں ان کو خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضلوں کی صورت میں آسمان سے برستا ہوا دیکھا کرتا تھا اور کون جانتا ہے کہ کتنا بڑا حصہ حضرت مولوی صاحب کا تھا اس کامیابی میں جو اس سفر کو نصیب ہوئی۔پس داعی الی اللہ تو وہ ہوتا ہے کہ جب ایک دفعہ عہد کرتا ہے تو پھر عمر بھر اس عہد کو کامل وفا کے ساتھ نباہتا بھی ہے اور آخری سانس تک داعی الی اللہ بنار ہتا ہے۔پس ہمیں اس قسم کے داعی الی اللہ کی ضرورت ہے۔ایک محمد دین اگر آج ہم سے جدا ہوتا ہے تو خدا کرے کہ لاکھوں کروڑوں محمد دین پیدا ہوں کیونکہ آج دنیا کو ایک یا دو یا سویا ہزارمحمد دین سے کامیابی نصیب نہیں ہوسکتی۔دنیا کے تقاضے بہت وسیع ہیں اور دنیا کی بیماریاں بہت گہری ہو چکی ہیں اس لئے خدا کی طرف بلانے والے اور خدا کے نام پر شفا بخشنے والے لاکھوں اور کروڑوں کی ضرورت ہے۔خدا کرے کہ ہر احمدی مرد اور ہر احمدی عورت ، ہر احمدی بچہ اور ہر احمدی بوڑھا اس قسم کا ایک پاکباز اور پاک نفس داعی الی اللہ بن جائے جس کی باتوں میں قوت قدسیہ ہو، جس کی آواز میں خدا تعالیٰ کی طرف سے صداقت اور حق کی شوکت عطا کی جائے۔جس کی بات کا انکار کرنا دنیا کے بس میں نہ رہے۔اس کے دم میں خدا شفا ر کھے اور وہ روحانی بیماریوں کی شفا کا موجب بنے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه هر جون ۱۹۸۳ء)