خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 904
خطبات طاہر جلد 17 904 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب بھول کر کھاتا ہے تو روزہ ٹوٹتا نہیں ہے اس لئے اس وہم میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔روزہ پورا کرئے وہ روزہ ہر گز نہیں ٹوٹا کیونکہ یہ بھول چوک بھی اللہ تعالیٰ نے بندے کے ساتھ لگائی ہوئی ہے اور روز مرہ چونکہ کھانے کی عادت ہوتی ہے اس لئے بعض لوگ بھول جاتے ہیں تو کسی تردد کی ضرورت نہیں، خدا نے آسانی پیدا فرمائی ہے،مشکل نہیں پیدا فرمائی لیکن اس میں ایک احتیاط ضروری ہے۔اگر کوئی انسان گلی وغیرہ کرنے میں بے احتیاطی سے کام لے، نہاتے وقت بھی انسان بار بار منہ میں پانی ڈالتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی بے احتیاطی کے نتیجہ میں بعض دفعہ پانی گلے سے نیچے اتر جاتا ہے۔اس صورت میں روزہ برقرار رکھنا ہوگا مگر روزہ ٹوٹ بھی جاتا ہے یعنی یہ روزہ ایک فاقہ کے طور پر روزہ کھلنے کے وقت تک برقرار رکھنا ضروری ہے مگر روزوں میں شمار نہیں ہوگا ، اس روزہ کی عدت پھر پوری کرنی ہے۔جو مدت مقرر فرمائی گئی ہے کہ تیس روزے رکھو یا انتیس کارمضان ہو تو انتیس رکھو یہ مدت بعد میں پوری کرنی ہوگی۔تو یہ دو الگ الگ مسئلے ہیں۔بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور مدت کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں مگر بے احتیاطیاں کرنے کے نتیجہ میں جب پانی پیٹ میں چلا جائے یا کچھ کھانے کی چیز چلی جائے تو ایسی صورت میں وہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔چکھنے کا مسئلہ اس کے علاوہ ہے۔چکھنے کے نتیجہ میں روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک انسان وہ نگل نہ لے۔تو روزہ نگلنے سے ٹوٹتا ہے جو باہر سے چیز آئے اور نگل لے۔یہ اللہ تعالیٰ نے منہ کو ایک قسم کی ڈیوڑھی بنایا ہے وہ چیز جو اندر سے اوپر نکلتی ہے اور ساتھ ہی واپس چلی جائے وہ اگر چہ گلے کے مقام سے کچھ آگے بڑھ گئی تھی لیکن پھر واپس چلی گئی اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔تھوک جو اندر سے ہی پیدا ہوتا ہے یہ ہر وقت انسان نگلتا ہی رہتا ہے تو اگر چہ تھوک منہ میں پیدا ہوا لیکن اس ڈیوڑھی سے ،حلق کے اس مقام سے گزر کر نیچے اتر گیا جس سے نیچے اتر نا منع فرمایا گیا ہے یعنی کھانے کا نیچے اتار نا منع فرمایا گیا ہے تو یہ بھی ایک کھانے پینے کی چیز ہے جو انسانی لعاب میں بھی تو بہت سی چیزیں موجود ہیں اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔پانی سے زیادہ قوی ہے لعاب۔پانی کے قطرہ سے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اگر اسے انسان نگل لے لیکن لعاب سے نہیں ٹوٹتا۔تو یہ چیزیں احتیاط کے تقاضے ہیں جو آپ کو پیش نظر رکھنے چاہئیں اور ہر وقت تھوکتے نہ رہیں۔بعض لوگ علماء کی بعض جاہلانہ تعلیمات کے نتیجہ میں ایسا تھوکنے کے عادی بنتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔صوبہ سرحد میں ایسے لوگ آپ کو کثرت سے ملیں