خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 903 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 903

خطبات طاہر جلد 17 903 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء تو اگر روزے کے حقوق ادا کرے گا تو ساری عبادتیں اس میں شامل ہو جاتی ہیں اسلام کے تمام احکامات روزے میں داخل ہو جاتے ہیں تو اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ کا یہ بھی ایک مطلب ہے کہ رمضان کے بارے میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن کو سمجھنا ہو تو قرآن کریم کے تمام مصالح اور مفادات تمہارے روزوں سے یا رمضان سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ رمضان کے حقوق ادا کرو گے تو قرآن کے حقوق ادا کرو گے اور وہ حقوق ایسے ادا کرو جیسے رسول اللہ صلی الہ السلام نے فرمایا کہ میں نے اپنی سنت کے ذریعہ یہ باتیں تم پر کھول دی ہیں ۔ اس لئے کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ ایک حدیث ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صل الا السلام نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔“ (صحیح البخاری، کتاب الصوم ، باب بركة السحور من غیر ایجاب۔۔۔حدیث نمبر : 1923) یہ جو سحری کی برکت ہے یہ تو ہم نے روز مرہ گھروں میں اس طرح بھی مشاہدہ کی ہے کہ وہ بچے جو روزہ نہیں بھی رکھ سکتے وہ بھی سحری کے شوق میں اٹھ جاتے ہیں یعنی تہجد کے وقت اٹھتے ہیں حالانکہ روز مرہ ان کے لئے نماز بھی فرض نہیں اور نماز کے لئے اٹھنا فرض نہیں ہے مگر سحری میں ایک ایسی برکت ہے کہ اس کا شوق پھیل جاتا ہے اور چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی کہتے ہیں ہمیں سحری کے وقت ضرور جگانا اور ساتھ اگر کوئی سویاں وغیرہ بھی ہوں کوئی میٹھی چیز ہو تو اور بھی خوش ہوتے ہیں۔ تو ان بچوں کی خاطر اپنی سحری میں کچھ اچھی میٹھی چیزیں بھی شامل کر لیا کریں تا کہ بچوں کو بچپن ہی سے عادت پڑ جائے اور رسول اللہ صلی لا الہ ہم نے جو یہ فرمایا کہ سحری کھایا کرو کہ سحری میں برکت ہے اس ہدایت کے بھی ہر پہلو پر عملدرآمد ہو۔ صحیح بخاری کتاب الصوم میں سے یہ حدیث لی گئی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الہ السلام نے فرمایا : اگر کوئی بھول کے کھائے پئے تو چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اللہ نے ہی اسے کھلایا اور پلایا ہے۔“ 66 (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب الصائم اذا اكل او شرب ناسيا ، حدیث نمبر : 1933)