خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 902 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 902

خطبات طاہر جلد 17 902 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء ملے گا تو اپنے روزے کے باعث خوش ہوگا۔یہاں رب سے ملے گا کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مرنے کا انتظار کرے کہ مرنے کے بعد رب سے ملے گا۔جس نے روزہ رکھا خدا کی خاطر اس کو افطار کی طرح نقد و نقد خوشی پہنچتی ہے، اللہ اسے ملتا ہے اور اس کی راتیں اور بھی پہلے سے زیادہ روحانیت سے شاداب ہو جاتی ہیں اور اللہ کے آنے سے اس کی راتیں خوشبوؤں سے بھر جاتی ہیں۔تو اللہ سے ملنے کی خوشی روز بروز ہوتی ہے، نقد و نقد سودا ہے اس کے لئے موت کے انتظار کی ضرورت نہیں۔کیوں؟ جن کو اس دُنیا میں خدا سے ملاقات میسر نہ ہو ان کو قرآن کریم کی رو سے قیامت کے دن بھی ملاقات میسر نہیں ہوگی۔جو اس دُنیا میں اندھے ہیں وہ قیامت کے دن بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے۔ایک اور حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جو صحیح البخاری کتاب الصَّوْمِ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ سے لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی للہ کہ تم نے فرمایا : روزے ڈھال ہیں۔سو کوئی شخص فحش بات نہ کرے اور نہ جہالت کی بات اور اگر کوئی 66 آدمی اس سے لڑے یا گالی دے تو چاہئے کہ اسے دو بار کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔“ یہاں دو بار کہنا باقی پچھلی روایت سے کچھ مختلف ہے۔مطلب یہ ہے کہ سرسری طور پر منہ سے نہ نکلے۔کہے پھر غور سے سمجھ لے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ، پھر کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک ،، سے زیادہ پسندیدہ ہے۔" (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب فضل الصوم ،حدیث نمبر : 1894) یہ ساری باقی حدیث وہی ہے جو اس سے پہلے میں بیان کر چکا ہوں۔روزے کے متعلق ایک حدیث جو مسند احمد سے لی گئی ہے۔ابونصر نے اپنے والد ابوامامہ سے یہ روایت سن کر بیان کی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ کی شادی تم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔آپ ملیشیا یہ تم نے فرمایا تیرے لئے روزہ ہے۔پس روزہ کا کوئی بدل نہیں یا یہ فرمایا کہ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ (مسند امام احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة۔حديث ابي امامة الباهلی - - حدیث نمبر : 22276)