خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 885 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 885

خطبات طاہر جلد 17 885 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء کہ ہم سے یہ سلوک کیوں ہورہا ہے حالانکہ اپنی بے حیائیاں، اپنی ناشکریاں ان پر خوب روشن ہو جانی چاہئے تھیں۔وہ دیکھتے ہیں اور پھر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں ظلموں میں۔جس طرح شکر کرنے والوں کے ساتھ آزیدن کا وعدہ ہے، جو کفر کرنے والے ہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک وعدہ ہے کہ پھر کفر کرتے چلے جاؤ کہاں تک کر لو گے، ہر کفر کا بد نتیجہ دیکھو گے یہاں تک کہ تم خاک کی طرح بکھر جاؤ گے، تمہاری کوئی بھی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔یہ واقعات بھی ہم دنیا میں ہوتے دیکھ رہے ہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنا شکر گزار بندہ بنائے اور ناشکری کے بدنتائج دیکھنے نہ نصیب کرے۔لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا - (الدهر : 10) اب اس مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت ہی عظیم الشان بات بیان فرمائی ہے کہ خدا کے یہ بندے جو شکر گزار ہوں اور لوگوں پر بے انتہا رحم کرنے والے اور خرچ کرنے والے ہوں وہ اس کے جواب میں شکر نہیں چاہتے۔لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَ لَا شُكُورًا نہ وہ جزا چاہتے ہیں کہ اس کا بدلہ ہمیں دو، نہ وہ اپنا شکر یہ پسند کرتے ہیں۔اس کی نیکی خالصا للہ ہوتی ہے اور اس کے دل میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ اس کے واسطے دعا کی جاوے۔“ اب یہ دیکھیں اس مضمون کو آپ نے کہاں تک پہنچا دیا ہے۔بسا اوقات لوگ احسان کے بدلے میں دعا کرتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ میرا حق ہے میں نے احسان کیا ہے اس نے مجھے دعا دی ہے لیکن یہ مضمون دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کس بلندی تک پہنچا دیا ہے۔فرماتے ہیں: اس کے دل میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ اس کے واسطے دعا کی جاوے۔‘اس وجہ سے کہ نظر خدا پر ہوتی ہے اس کا وعدہ ہے لازید لکم تو اس کا یہ وعدہ کسی کی دعاؤں کا محتاج نہیں ہوا کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بے انتہا احسان کئے ہیں بنی نوع انسان پر ، اپنے گردو پیش پر اور اس دُنیا پر بھی جو ابھی آپ کے حلقہ ارادت میں نہیں آئی تھی مگر یہ خیال“ جب آپ فرماتے ہیں تو آپ کے دل میں بھی خیال تک نہیں گزرا کہ میرے لئے دعا کی جائے۔جانتے تھے کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور دعا اٹھنے سے پہلے لوگوں کی دعا سے پہلے، خود میری دعا سے پہلے اس کے پیار کی نظر مجھ پہ پڑتی ہے اور میرے شکر کے نتیجہ میں مجھے بڑھاتا چلا جارہا ہے۔