خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 881
خطبات طاہر جلد 17 881 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء دلچسپ واقعہ بیان فرماتے ہیں اور ایک ہندو کا واقعہ ہے مگر وہ دل سے چونکہ مسلمان ہو چکا تھا اور حمد و ثنا میں وقت گزارتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ایک شان عطا فرمائی جو اسی مضمون سے تعلق رکھتی ہے۔فرماتے ہیں: ” مجھے یاد ہے کہ ایک ہندو سر رشتہ دار نے جس کا نام جگن ناتھ تھا اور جو ایک متعصب ہندو تھا بتلایا۔اس متعصب ہندو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا کہ یہ باتیں میں آپ کو بتا رہا ہوں جو میری آنکھوں دیکھی ہیں ورنہ آپ کو پتا نہیں لگنا تھا ان باتوں کا۔کیا بتلایا: کہ امرتسر یا کسی جگہ میں وہ سررشتہ دار تھا اور ایک ہندو اہل کار در پردہ نماز پڑھا کرتا تھا اور بظاہر ہندو تھا۔میں اور دیگر سارے ہندو اسے بہت برا جانتے تھے اور ہم سب اہل کاروں نے مل کر ارادہ کر لیا کہ اس کو (ضرور) موقوف کرائیں۔اور سب سے زیادہ شرارت میرے دل میں تھی۔( یہ شریروں کا سر براہ بنا ہوا تھا ) میں نے کئی بار شکایت کی کہ اس نے یہ غلطی کی ہے اور یہ خلاف ورزی کی ہے مگر اس پر کوئی التفات نہ ہوتی پر تھی۔(جو افسر تھا وہ پوری توجہ نہیں دیتا تھا اس کی شکایتوں پر۔کہتے ہیں : ) لیکن ہم نے (بھی) ارادہ کر لیا ہوا تھا کہ اسے ضرور موقوف کرائیں گے۔اور اپنے اس ارادہ میں کامیاب ہونے کے لئے بہت سی نکتہ چینیاں بھی جمع کر لی تھیں۔(وہ صاحب بہادر جو انگریز تھا وہ معلوم ہوتا ہے صاحب فراست تھا۔کہتے ہیں:) اور میں وقتاً فوقتاً ان نکتہ چینیوں کو صاحب بہادر کے ہاں پیش کر دیا کرتا تھا۔صاحب اگر بہت ہی غصہ ہو کر اس کو بلا بھی لیتا تھا تو جب وہ سامنے آجا تا ( تو ) گویا آگ پر پانی پڑ جاتا۔معمولی طور پر نہایت نرمی سے (اسے) فہمائش کر دیتا گویا اس سے کوئی قصور سرزد ہی نہیں ہوا۔(اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ) اصل بات یہ ہے کہ تقویٰ کا رُعب دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔“ تو سرحدوں پر گھوڑے باندھنے سے ایک رعب ہے جو دشمنوں پر طاری ہوجاتا ہے اور دشمن پھر اس سرحد کا رخ ہی نہیں کرتے اور یہ رعب ایسا عظیم الشان رعب ہے تقویٰ کا کہ دُنیا کی نظر سے چھپا ہوا دل میں وہ تقویٰ موجود ہے مگر اس کا ایک رعب ہے جو بظا ہر دکھائی بھی دیتا ہے لوگوں کو اور نتیجہ یہ