خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 880
خطبات طاہر جلد 17 880 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء کے ساتھ اور طہارت کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ شکر کی آخری شان تقوی سے ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : علیہا تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔ مسلمان ( کا) پوچھنے پر الحمدللہ کہہ دینا سچا سپاس اور شکر نہیں ہے۔“ ۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں تم مسلمان ہو؟ کہ الحمد للہ مسلمان ہیں مگر یہ صرف منہ کا ایک کلمہ ہے جب تک ساری زندگی احمد نہ بن جائے اور جب تک خدا کا سچا تقویٰ نصیب نہ ہو منہ سے نکلے ہوئے الحمد کے الفاظ کچھ بھی معنی نہیں رکھتے ۔ فرمایا: اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں تو میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو ۔ 66 اگر تم نے خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا کا سچا حق ادا کیا یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں تو میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو۔ اب سرحد پر کھڑے ہونا کئی مفاہیم رکھتا ہے۔ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سرحد پر کھڑے ہونے کی بشارت کیوں دیتے ہیں؟ جو اپنے ملک اپنے وطن کا مرکز چھوڑ کر سرحدوں پر جا بیٹھے یہ تو کوئی نعمت نہیں ہے، بظاہر کوئی شکر کی بات نہیں ہے لیکن جو مفہوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان کر رہے ہیں وہاں مرکز کو جسمانی طور پر چھوڑنے کا مفہوم نہیں ہے بلکہ جیسے سرحد پر گھوڑے باندھے جاتے ہیں تا کہ دشمن اندر داخل ہی نہ ہو سکے اسی طرح مومن جو تقوی اختیار کرتا ہے گویا اس نے اپنی سرحدیں مضبوط کر لیں یعنی جسمانی طور پر انتقال جسم کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ، مرکز میں رہا اور سرحدیں مضبوط کرنے میں حضرت اقدس محمد صلی ال ال سالم کا مقام سب سے عالیشان تھا۔ تو جسمانی طور پر تو آپ صلی السلام مرکز میں ہی رہے مگر شیطان کی طرف سے ہر طرف سے سرحدیں مضبوط رکھیں یعنی ادنی سا بھی حملہ غیر اللہ کا آپ صلی السلام کی ذات پر ممکن نہیں تھا کیونکہ جیسے سرحدوں پر گھوڑے باندھے جائیں تو دشمن کے سرحد میں داخل ہونے سے پہلے ہی ان کو دبوچ لیا جاتا ہے یا ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مومن کی شان ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی کا ایم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے۔ یہ معانی ہیں جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، یہ مراد ہے۔ اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک بہت ہی