خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 879 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 879

خطبات طاہر جلد 17 879 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء عطا کی ہے اور اس وقت بھی پیار کے ساتھ نظر پڑتی تھی جب بندوں کو وہ نعمت آگے عطا فرما دیتے تھے۔تو یہ مختلف رنگ ہوا کرتے ہیں یہ سارے شکر ادا کرنے ہی کے رنگ ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کا اثر دیکھتا تھا ہر بندے کے مزاج کے مطابق وہ اثر ظاہر ہوتا ہے۔مگر یادرکھنا چاہئے کہ یہ اثر اللہ کی نعمت کے تصور کے ساتھ پیدا ہونا چاہئے۔جب اسے اس خدا کے ہاتھ سے ہٹا کر دُنیا میں ایک دکھاوے کے طور پر استعمال کریں گے تو یہی لعنت بن جائے گی۔نعمت نہیں رہے گی، یہ ناشکری ہو جائے گی۔ہمیشہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ اللہ نے عطا فرمایا ہے اور اللہ نے عطا فرمایا ہے تو اس کے بے تکلف اظہار تشکر کے ساتھ اس کو وابستہ کر دینا چاہئے۔یہ شکر کی جتنی قسمیں میں نے بیان کی ہیں ان میں بے تکلفی ضروری ہے۔جہاں تکلف آیا وہاں اللہ سے رشتہ ٹوٹ گیا۔پس اپنی طبیعتوں اور مزاج کو سمجھیں، ان پر غور کریں اور اپنے مزاج کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو استعمال کریں اور پھر آگے بندوں کو ان کے فائدے پہنچائیں۔یہ شکر کی مختلف قسمیں ہیں جو آنحضرت مصلی تم نے اس مختصر سی حدیث میں بیان فرما ئیں۔"إِنَّ اللهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ کہ اللہ تعالیٰ بہت پیار سے، بہت محبت سے دیکھتا ہے ان آثار کو جو اس کی نعمت کے اس کے بندوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات جن میں اسی مضمون کو مختلف طریق پر بیان فرمایا گیا ہے اس حدیث نبوی کے بعد میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آنحضور صلی الی یوم کی ہدایات ہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ سے جاری ہو رہی ہیں۔ایک بھی ایسی بات آپ نہیں کرتے جو قرآن اور قرآن کی تشریح میں حدیث میں موجود نہ ہو۔اس لئے جب میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ آپ کے سامنے رکھتا ہوں تو قرآن اور حدیث کے علاوہ نہیں بلکہ قرآن اور حدیث پر مشتمل الفاظ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرمایا: تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔“ دیکھیں جو آیت آپ کے سامنے تلاوت کی تھی اس میں تقویٰ کا ذکر نہیں ہے، حدیث میں ہے ذکر اور دوسری آیات میں ہے۔بہر حال جو اس وقت تلاوت کی ہے اس میں نہیں مگر دوسری آیات میں ہے کہ رمضان شریف کا مہینہ اس لئے تم پر فرض کیا گیا ہے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 184) تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر غالباً اسی لفظ تقویٰ پہ ہے اور شکر کا تقویٰ