خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 878
خطبات طاہر جلد 17 878 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء لیا اور شرما یا نہیں۔اگر خدا کی عطا کردہ نعمت سے شرمایا جائے تو یہ ناشکری ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس نعمت کی قدر نہیں کی اور سمجھتا تھا کہ مجھے بڑا ملنا چاہئے تھا، زیادہ ملنا چاہئے تھے، یہ پہن کے لوگوں کے سامنے جاؤں گا تو وہ کیا کہیں گے۔تو گو یا اللہ تعالیٰ نے جو عطا کیا وہ اس سے شرما گیا۔تو ان امور کو بڑے غور سے دیکھیں اور سمجھیں اور پھر دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تینوں قسم کے شکر ادا کرنے والوں کو محبت اور پیار سے دیکھا ہے اور ایسے غریبوں اور فقیروں کو جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہوا کرتا تھا ان کو عزت کے ساتھ اپنے پاس بلایا ، اپنے پاس بٹھایا۔ابتداء میں وہ کچھ گھبراتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں جو اتنا آگے بلایا جا رہا ہے ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ انہوں نے پہنا ہے اور یہی پسند ہے اللہ تعالیٰ کو، یہ ناشکری کرنے والے بندے نہیں ہیں۔پھر کچھ اور لوگ بھی ہیں جن پر نعمت کا اثر اللہ تعالیٰ اور طرح سے دیکھتا ہے۔آنحضرت صلی یا یہ تم پر نعمت کا اثر اس طرح ظاہر ہوتا تھا کہ اللہ جو کرتا تھا بالکل ویسے ہی آپ صلی ایتم کرنے لگتے تھے۔یہ بھی ایک شکر کا طریق ہے جو آقا کرے بعینہ وہی کرنے کی کوشش کرو۔اللہ نے آپ ملالہ کی تین کو ہر قسم کی نعمت عطا کی جبکہ آپ صلی می ایستم سمجھتے تھے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور واقعہ کچھ بھی نہیں تھا۔جب خدا نے یہ سب کچھ دیا تو پھر اس ساری نعمت کو شکر کے ساتھ ان بندوں کی طرف بہا دیا جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا تھا یا نسبتا کم ہوا کرتا تھا۔تو دیکھیں پہنا تو نہیں وہ لیکن پہنا یا ضرور اور شوق اور محبت کے ساتھ پہنایا۔ہاں بعض دفعہ دُنیا کو یہ سمجھانے کے لئے کہ اللہ نے جو دیا ہے ویسا ہی پہن بھی لینا چاہئے اور اس میں کوئی عار نہیں ہے یہ کوئی خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف بات نہیں ہے۔آنحضور صلی یاتم نے بعض دفعہ بہت ہی خوبصورت قبائیں پہنیں، کوٹ پہنے جو باہر سے تحفہ آئے ہوئے تھے اور صحابہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اتنے خوبصورت لگ رہے تھے اس میں، ان کپڑوں میں کہ ہم چاند کو دیکھتے تھے کبھی رسول اللہ ہی ہے کہ ان کو دیکھتے تھے مگر خدا گواہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی والی تم کا حسن بہت زیادہ تھا۔تو اب دیکھیں اس وقت بھی اللہ کی پیار کی نظر آپ سا یہ کہ تم پر پڑ رہی تھی جب آپ صلی یا تم خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو پہن رہے تھے اور دکھارہے تھے کہ دیکھو اللہ نے مجھے یہ نعمت