خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد 17 76 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء سكتة قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَ إِنْ لَمْ تَغْفِرُ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الخسِرِينَ پھر فرمایا: (الاعراف: 15 تا 24) یہ سورۃ الاعراف کی آیات پندرہ تا چوبیں ہیں جن کی میں نے تلاوت کی ہے۔اس مضمون پر میں پہلے بھی روشنی ڈال چکا ہوں جو ان آیات کریمہ میں بیان ہوا ہے۔آج ایک خاص ارادہ کے ساتھ دوبارہ ان کی تلاوت کی ہے اور ان میں سے بعض باتیں ہیں جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں ورنہ تمام آیات جن کی تلاوت کی گئی ہے اگر ان کی تفصیل شروع ہو گئی تو یہ مضمون بیچ میں رہ جائے گا اور اگلے خطبہ میں بھی اس کا ختم ہونا مشکل ہے۔شیطان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو پہلا مکالمہ ہوا ہے اور شیطان نے کیوں خدا تعالیٰ کو چیلنج دیا کہ میں اب تیرے بندوں سے کچھ کرنے والا ہوں یہ سارا تذکرہ ان آیات کریمہ میں کیا گیا ہے۔جب شیطان کو خدا نے دھتکار دیا تو اس نے کہا : انظري إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ کہ مجھے اس دن تک مہلت دے جس دن یہ لوگ اٹھائے جائیں گے یعنی آخری دن تک اس دُنیا میں جو انسان بسر کرے گا اس وقت تک اس نے اپنے لئے مہلت مانگی۔قَالَ فَبِمَا اغْوَيْتَنِي لَا قُعُدَنَ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ اور یہ کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ قرار دیا ہے اس لئے میں صراط مستقیم پر تیرے بندوں کے لئے بیٹھوں گا اور دیکھوں گا کہ تیرے بندے کس قسم کے ہیں۔اگر میں گمراہ ہوں تو جن کو تو اپنا بندہ کہتا ہے ان کو میں بہکا کے بتاؤں گا کہ دیکھ تیری پیداوار، تیرے بندے مجھ سے اعلیٰ نہیں ہیں اور چونکہ اپنے بندہ کو خدا تعالیٰ نے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا یہ شیطان کا اس کے مقابل پر ایک استدلال تھا کہ مجھے تو تو نے گمراہ قرار دے دیا پر جس کے لئے مجھے سجدہ کا کہہ رہا ہے اس کا جو میں حال کروں گا پھر پوچھوں گا کہ گمراہ کون ہوتا ہے اور دعویٰ یہ ہے کہ مجھے صراط مستقیم پر بیٹھنے دے اور یہ اہم نکتہ ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) کہہ کر ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآنہیں ہو جاتے ، وہاں سے ہمارا امتحان شروع ہوتا ہے اور شیطان بیٹھا ہی صراط مستقیم پر ہے۔اگر کوئی انسان ٹیڑھی راہوں پر چل رہا ہو تو وہ تو پہلے ہی ٹیڑھا چل رہا ہے، شیطان کو ضرورت کیا ہے کہ ٹیڑھی راہوں سے بہکائے۔پس صراط مستقیم پر چلنے کے جو تقاضے ہیں ان کو ہمیں پیش نظر رکھنا ہے اگر