خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 867 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 867

خطبات طاہر جلد 17 867 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء کر دیں یہ ایک بہت بڑا نیکی کا فعل ہے جو بڑھتا چلا جائے گا اور چونکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اسے ہم غریب علاقوں میں مساجد کے لئے استعمال کرتے ہیں تو وہاں وہ سارے شکر گزار ہوں گے اور جو بھی وہ شکر گزاری کریں گے اس کی جزا اُن کو ملتی چلی جائے گی۔تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ بیرونی جماعتیں بھی اس سے نصیحت پکڑیں گی اور ہندوستان کی جماعتیں بھی خصوصیت کے ساتھ اس طرف بھی توجہ کریں گی کہ غریبوں کے چندے سے بچت کر کے وہاں مسجدیں بنانے کے لئے استعمال کریں اور کچھ زائد رقم ہم انشاء اللہ تعالیٰ مہیا کریں گے۔میں سمجھتا ہوں مسجد میں تو جتنی بنائی جا سکتی ہوں بناتے چلے جانا چاہئے کیونکہ مسجد میں مومن کی روح ہے ، مومن کی جان ہے، مسجد جماعت کا قائم مقام ہے اور مسجد کے نتیجہ میں ہی جماعت کو تقویت ملتی ہے۔اس سلسلہ میں افریقہ والوں کو بھی میں نے ہدایت کی تھی۔بعض دفعہ تھوڑی دیر کام کرنے کے بعد وہ لوگ تھک بھی جایا کرتے ہیں تو ان کو بھی میں دوبارہ بتا رہا ہوں مسجدوں کی تعمیر سے رکنا نہیں ہے۔یہ نہ سمجھیں کہ میں بنادیں ہم نے یا تیں بنادیں، بناتے چلے جائیں۔کوئی جماعت ایسی نہ ہو جس کی اپنی مسجد نہ ہو اور جہاں مسجدیں ہو جائیں گی وہاں جماعتیں مستحکم ہو جائیں گی پھر نا ممکن ہے کہ ان کو ہٹایا جا سکے کیونکہ جماعتیں مسجد سے وابستہ ہوتی ہیں اور مسجد ہی میں تمام انسانوں کے اجتماع کا مضمون داخل ہے۔اِنَّ اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ (آل عمران: 97) میں یہی مضمون ہے جو بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سارے بنی نوع انسان کو جو باندھنے کا فیصلہ کیا تھا کہ ایک ہاتھ پر ا کٹھے ہو جائیں تو اللہ نے دیکھیں کیسی ترکیب کی اپنا گھر بنایا تا کہ اس کا فائدہ سارے بنی نوع انسان کو پہنچے اور سارے بنی نوع انسان اس گھر کے ذریعہ ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جا ئیں۔اب دیکھ لیں تمام بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی للہ یہ تم کو وہاں مبعوث فرما کر خانہ کعبہ کے گردا کٹھا کر دیا ہے تو حج ہر دفعہ یہی تو پیغام لے کے آتا ہے کہ مسجدوں میں تمہاری زندگی ہے، مسجدوں میں تمہاری جماعت ہے۔پس مسجدوں کی تعمیر کی طرف دُنیا کے تمام ممالک متوجہ ہوں اور پاکستان میں جو ہمارے دشمنوں کو دشمنی ہے مسجدوں سے اس کے باوجود جہاں جہاں جس طرح توفیق ملے مسجد میں ضرور بنائیں۔اس کی سزائیں بھی ملتی ہیں، مسجدیں بنانے کے نتیجہ میں شہید بھی کئے جاتے ہیں مگر اللہ کا گھر بنانے سے احمدی باز نہیں آسکتا۔اگر ایسے حالات پیدا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں نقصان کا ایسا خطرہ ہو کہ