خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 841 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 841

خطبات طاہر جلد 17 841 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء چاہئے۔پہلی تقریر سے لے کر آخری تقریر تک ضرور بیٹھے رہیں اور آخری بات جو اول بھی ہے اور آخر بھی ہے دعاؤں اور ذکر الہی پر زور ہے۔عادت ڈالیں چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے دعائیں کریں اور ذکر الہی کریں۔قادیان کی فضا ذکر الہی سے گونج اٹھے۔نعرہ ہائے تکبیر تو بلند آواز سے بیان کئے جاتے ہیں مگر جوذ کر آسمان کے کنگرے چھوتا ہے وہ دل سے اٹھا ہوا ذکر ہے خواہ خاموشی سے کیا جائے۔تو ذکر الہی قادیان کے باشندے خود بھی کرتے رہیں اور آنے والوں کو بھی اس کی نصیحت کریں۔اور اس کے ساتھ جہاں دعا ئیں ہیں وہاں بعض دفعہ دواؤں کی بھی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ جو گرم علاقوں سے آنے والے ہیں اور اکثریت ان کی ہے ان کو یہاں نزلہ زکام اور کئی قسم کی ایسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، آج کل انفلوئنزا بھی پھیلا ہوا ہے، کہ ان کی روک تھام کے لئے میرا تجربہ ہے کہ جو ہومیو پیتھک دوا انفلوئنزیم یا نزلے کی دوا بنائی ہوئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی مفید ہے اور نزلے کی یا نزلاتی بیماریوں کی پیش بندی کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے میں نے بہت مؤثر پایا ہے۔تو غالباً پہلے میں نے یہ ہدایت ان کو بھجوا دی تھی لیکن اب پھر تاکید کر رہا ہوں کہ بکثرت یہ دوائیں بن کر سب جگہ مہیا ہو جانی چاہئیں تا کہ خدا کے فضل کے ساتھ کوئی بیمار ہی نہ پڑے، ایک دفعہ بیمار پڑ جائے تو پھر بڑی مشکل پڑ جاتی ہے، بیماری لاحق ہی نہ ہو تو پھر بہت آرام ہے۔یہ اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ ہندوستان میں سل کی بیماری بہت کثرت سے پائی جارہی ہے غربت کی وجہ سے، مچھروں کی وجہ سے اور بہت سی ایسی وجوہات ہیں جن کے نتیجے میں جب رات کو بخار ٹوٹتے ہیں تو ٹھنڈ لگ جاتی ہے اور اکثر پھیپھڑوں کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اور پھیپھڑوں کی بیماری والے کے لئے نزلہ زکام ایک زہر قاتل بن جایا کرتا ہے۔پھر اسی کے نتیجے میں دمہ والوں کو بھی تکلیفیں ہوتی ہیں۔پس میرے نزدیک یہ بھی بہت اہم بات ہے کہ دعاؤں کے ساتھ دواؤں اور خاص طور پر ان دواؤں پر زور دیں جو پیش بندی کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔باقی انشاء اللہ کل افتتاح ہوگا ہندوستان کے وقت کے لحاظ سے ساڑھے تین اور ہمارے وقت کے لحاظ سے یہاں دس بجے انشاء اللہ افتتاح ہوگا اور چونکہ یہاں بھی جگہ تھوڑی ہے اور سب لوگ شامل نہیں ہو سکیں گے لیکن ٹیلی ویژن پر چونکہ یہ منظر دکھایا جائے گا اس لئے آپ سب اپنے گھر بیٹھے بھی اس جلسہ میں شریک ہو سکتے ہیں۔