خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 838 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 838

خطبات طاہر جلد 17 838 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء نصیحتیں ہیں ان میں سب سے پہلے تو باہمی اخوت اور محبت کا ماحول ہے۔بہت ضروری ہے کہ ایک دوسرے سے اگر کچھ شکوے تھے بھی تو ان کو بالکل بھلا ڈالیں اور قادیان کے جلسے میں ایک ایسی گہری اخوت اور جمعیت کا احساس پیدا ہو کہ ہر آنے والا زائر محسوس کرے کہ ہم اس جماعت کے رکن ہیں جس جماعت کی تعمیر آنحضرت صلی للہ یہ تم نے فرمائی تھی۔سب مومن اخوۃ ہو جائیں۔کوئی بھی اختلافی بات نہ مجالس میں نہ ایک دوسرے کے طرز عمل میں دکھائی دے اور چونکہ اس دفعہ غیر معمولی طور پر نومبائعین اس جلسہ میں شامل ہو رہے ہیں، اتنے نو مبائعین کہ اس سے پہلے کبھی کسی قادیان کے جلسہ میں اتنے نو مبائعین شامل نہیں ہوئے ، تو چونکہ انہوں نے بھی احمدیت کا سفیر بن کر قادیان سے واپس اپنے ممالک کو ، اپنی جگہوں پر واپس جانا ہے اور وہاں جا کر جو قادیان میں دیکھا وہ آنکھوں دیکھی کہانی بیان کرنی ہے اور اپنے دل کے تاثرات تو بہر حال وہ ساتھ لے کے جائیں گے ہی اس لئے جو کہانی بیان کریں گے اس میں ایک دلی جذبات کی ملونی سے غیر معمولی طاقت پیدا ہو جائے گی۔یہ طاقت کا پیدا ہونا آپ کی روحانی طاقت پر منحصر ہے جو اس وقت قادیان کے باشندے ہیں اگر آپ نے دل کی گہرائی سے ان مہمانوں کی خدمت کی اور جمعیت کا احساس اور اخوت کا احساس بیدار کیا تو لازماً جو باتیں بھی وہ جا کے بیان کریں گے ان میں ایک طاقت پیدا ہو جائے گی ورنہ پھر ایک سرسری باتیں ہوں گی۔اس لئے بہت اہمیت رکھتی ہے یہ بات کہ آپ غیر معمولی مومنانہ اخوت اور محبت کے رشتہ میں منسلک ہوں اور ہر دیکھنے والا اس کو دیکھے اور محسوس کرے۔اس ضمن میں مناسب ضرورتوں کا خیال رکھنا بھی آپ کا فرض ہے۔آنے والوں کی سب ضرورتیں پوری ہوئی اس لحاظ سے تو ممکن نہیں کہ ہر ایک کی ضرورتیں الگ الگ ہوا کرتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تو یہ دستور تھا کہ کوشش کر کے ہر ایک کی انفرادی ضرورت کو بھی معلوم کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اگر کسی کو حقہ کی بھی عادت ہو ، عادت کو چھڑانا تو بعد کی بات تھی وہ تو ایک لمبی نصیحت سے تعلق رکھنے والا مضمون تھا لیکن اس ضرورت کو اس وقت ضرور پوری فرما دیا کرتے تھے۔کسی کو پان کھانے کی عادت ہے تو اس کے لئے بعض دفعہ دوسرے شہروں میں آدمی بھگانا پڑا کہ وہاں سے پان لے کر آئیں۔تو اب چونکہ مہمانوں کی کثرت ہے، دس ہزار سے زیادہ نو مبائعین انشاء اللہ اس جلسہ میں شامل ہوں گے تو اس پہلو سے یہ تو میں آپ سے توقع نہیں رکھتا