خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 810 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 810

خطبات طاہر جلد 17 810 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء کی بادشاہی ہو تو ہرگز مراد نہیں کہ وہیں رک جاتے ہیں سوائے اس کے کوئی معنی ذہن میں آہی نہیں سکتا کہ اللہ کی بادشاہی ہو۔ پس اس پہلو سے جب رضوانِ یار کا تاج مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سر پر رکھا جائے گا تو یہی وہ تاج ہے جو محمد رسول اللہ صلی لا الہ سلم کے سر پر خدا تعالیٰ نے رکھا تھا اور وہی تاج ورثے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نصیب ہوا مگر ورثے میں کہہ تو سکتے ہیں مگر نہیں بھی کہہ سکتے ، کیونکہ عملاً رسول اللہ صلی اسلام کا ہی تاج ہے جس نے آگے بڑھنا ہے، جس کی رسول فرمانروائی نے پھیلتے چلے جانا ہے۔ ہے۔ اب یہی سلسلہ خدا تعالیٰ، جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا، آگے خلفاء میں بھی جاری فرماتا ہے لیکن ایک فرق کے ساتھ۔ اس فرق کی وضاحت میں پہلے کر چکا ہوں ۔ چکا ہوں ۔ اب میں حضرت رت خليفة اتيح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کرتا ہوں ۔ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ جو اس سے پہلے عادتیں تھیں یعنی احمدیت سے پہلے کی اور بچپن سے ان میں کوئی فرق نہیں آیا اور آپ کا علم اور حکمت کا دربار جاری تھا۔ لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو افادہ پہنچانے کے لئے ، فائدہ پہنچانے کی غرض سے جس نے چاہا آیا آ کے بیٹھ گیا۔ آپ نے کبھی کوئی روک نہیں ڈالی اور دن رات آپ کا یہی کام تھا خدمت قرآن اور بنی نوع انسان کی خدمہ انسان کی خدمت علم شفاء کے ذریعہ اور بسا اوقات یہ دونوں کام ساتھ ساتھ بھی جاری رہتے تھے۔ قرآن کریم کا درس ہو رہا ہے اور ساتھ ہی مریضوں کا بھی دور دورہ ہے۔ وہ بھی آتے چلے جارہے ہیں تو جہاں درس ختم ہوا وہاں مریضوں کو دیکھنے لگ گئے۔ تو یہ جو سلسلہ ہے یہ اس غرض سے نہیں تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب یہ دور جاری رہا ہے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دربار کے علاوہ آپ نے کوئی دربار لگایا ہو۔ ہرگز ایسا کبھی نہیں ہوا۔ آپ کے ہاں جو لوگوں کا جم غفیر ہوتا تھا وہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ملنے والے آیا کرتے تھے ان میں سے ایک طبقہ آپ کے پاس بھی پہنچا کرتا تھا اور آپ کے پاس بیٹھ کر ان کا رخ پہلے سے زیادہ شدت اور زور کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف پھرا کرتا تھا ۔ ایک بھی واقعہ آپ کو آپ کی زندگی میں نہیں ملے گا کہ آپ نے ۔ بازاروں میں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خطبات کے بعد یا آپ کے جلسوں کے بعد بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنا در بار لگایا ہو۔ کبھی بھی ایک واقعہ آپ کی ساری زندگی میں آپ کو نہیں