خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 784 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 784

خطبات طاہر جلد 17 784 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء اللہ تعالیٰ اس انسان سے محبت کرتا ہے جو پرہیز گار ہو، بے نیاز ہو، گمنامی اور گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے والا ہو۔“ (صحیح مسلم کتاب الزهد والرقائق،حدیث نمبر : 2965) آنحضرت صلیا کی تم نے تو نبوت کے بعد گوشہ نشینی ترک کر دی تھی اس لئے یہ مراد نہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت بھی ختم ہو گئی۔گوشہ نشینی ترک کی تھی محبت کی خاطر اور حکما ، پھر مجبور کر دئے گئے ہیں کہ گوشہ نشینی ترک کرو، اُس وقت آنحضرت صلی ال ایتم نے گوشہ نشینی ترک کی لیکن اس میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں وہ بھی سیڑھیاں سی ہیں جو درجہ بدرجہ معاملہ کو آگے بڑھا رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے جو پر ہیز گار ہو یعنی بدیوں سے رکنے والا ، طبعاً عادتاً نیک مزاج ہو اور گنا ہوں سے اجتناب کرتا ہو، بے نیاز ہو۔اس لئے اجتناب نہیں کرتا کہ لوگ دیکھیں اور اس کی تعریف کریں، اس سے اجتناب ذاتی ہے اور لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ کس کس چیز سے اجتناب کر رہا ہے۔اس کے اجتناب کی حالت ہی مخفی رہتی ہے اور وہ اس بات سے بے نیاز ہوتا ہے ، کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ دُنیا کو پتا لگ رہا ہے کہ نہیں کہ میں کس چیز سے بچ رہا ہوں، خدا کی خاطر کیا کیا تکلیف اٹھا رہا ہوں۔جب بے نیاز ہوتا ہے تو پھر گمنامی اور گوشہ نشینی اختیار کرنا اس کا طبعی نتیجہ ہے۔گوشہ نشینی اس کو دوہرا فائدہ دیتی ہے۔ایک تو اس کی بے نیازی کی یہ شان ہے کہ وہ گوشہ نشین ہو جاتا ہے اور اس کو کوئی پرواہ نہیں کہ دنیا کو اس کا کچھ پتا بھی ہے کہ نہیں۔دوسرے گوشہ نشینی کے نتیجہ میں جس بنا پر وہ دُنیا سے الگ ہوا یعنی اللہ کی محبت ، اس کو اس کا حق ادا کر نے کا زیادہ موقع مل جاتا ہے۔اس کے بعد اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات جو اس مضمون سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتے چلے جا رہے ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ملفوظات جلد 4 صفحہ 317 طبع جدید میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ اقوال درج ہیں جو ملفوظات کہلاتے ہیں یعنی آپ نے زبانی مجالس میں یہ باتیں کی تھیں جنہیں بعد میں کتابی صورت میں شائع کر دیا گیا۔ضروری نہیں کہ بعد میں شائع کیا گیا ہو بہت سے ملفوظات ایسے ہیں جو ساتھ ساتھ الحکم وغیرہ میں مختلف جماعتی رسالوں میں شائع ہو رہے تھے اور اس وجہ سے ان پر یہ سند ہو گئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ کہا تھا وہی بات لکھی گئی ہے۔جو لکھی گئی ہے