خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 783

خطبات طاہر جلد 17 783 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء نبوت کے بعد شروع ہوا ہے۔آغاز ہی میں ، بچپن ہی میں جس بنا پر نبوت عطا ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی سلیم خدا کی طرف تبتل فرما رہے تھے اور اس تبتل کے بغیر آپ سی ای تم کو نبوت عطا نہیں ہوئی تھی کیونکہ تبتل نبوت کی پہلی شرط ہے اس کے بعد نبوت عطا ہوا کرتی ہے۔حِينَ أَرَادَ اللهُ كَرَامَتَهُ وَرَحْمَةَ العِبَادِ بِهِ : کہتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ شروع میں رسول اللہ صلی یہ تم جب تبتل فرما رہے تھے تو کوئی رویا بھی ایسی نہیں ہوتی تھی جو صبح روز روشن کی طرح پوری نہ ہو جاتی ہو۔تو رؤیا کا آغاز یہ بھی نبوت کی پہلی سیڑھی تھی۔بعد میں جو الہامات اور مکاشفات کا واضح سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے پہلے ایک مزہ چکھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے رویائے صالحہ کا سلسلہ جاری فرمایا اور حضرت عائشہ خود تو اس وقت نہیں تھیں مگر لاز ما آنحضرت صلی یا سیستم سے یا دیگر صحابہ سے سنا ہو گا کہ حالت یہ تھی کہ رات کو جو دیکھتے تھے صبح جس طرح صبح طلوع ہوتی ہے اسی طرح وہ رو یا طلوع ہو جایا کرتی تھی۔بعینہ وہی باتیں صبح ظاہر ہوتی تھیں گویا کہ آنحضرت صلی لا نیستم کا دل مزید یقین پر قائم ہو جاتا تھا کہ جس راستہ پر میں چلا ہوں وہی درست رستہ ہے اور اللہ اسی رستہ پر ملے گا۔فَمَكَتَ عَلَى ذلِكَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَمَكُت : اس حالت پر جتنا اللہ نے چاہا آپ صلی الہی تم کو ٹھہرائے رکھا۔وَحُبّبَ إِلَيْهِ الخَلوةُ : اور یہ وہ دور ہے جب آپ مسی ایم کو خلوت بہت پیاری تھی اور خلوت پیاری کر دی گئی آپ سالی یا یتیم کے لئے۔فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْلُوَ : کوئی چیز بھی آپ سلیم کو اس سے زیادہ پیاری نہیں تھی کہ آپ مینی سیتم علیحدہ رہیں اور دُنیا سے قطع تعلق کرلیں۔غارِ حرا میں جا کر رہنے کا جو سلسلہ ہے وہ اسی خلوت کی علامت ہے۔پس غار حرا میں جانے سے پہلے نبوت عطا نہیں ہوئی بلکہ نبوت کی ابتدائی سیڑھیاں تھیں جو چڑھنے کے بعد پھر بعد میں غارِحرا آتی ہے اور غارِ حرا میں جانے کے بعد کچھ عرصہ تک، جب تک اللہ نے چاہا آپ سلتی ریتم کو علیحدہ رکھا پھر حکماً آپ مالی اسلم کو باہر نکالا گیا ہے۔یہ مضمون تمام سالکوں کے لئے برابر ہے۔ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتا ہے وہ آنحضرت صلی اینم کے اس نمونہ کی پیروی کرے اور اس کو مدنظر رکھ کے پھر اپنا جائزہ لے کہ کس حد تک وہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھتا ہے یا بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک دوسری حدیث جو مسلم کتاب الزُّهْدِ وَالرِّقَائِقِ سے لی گئی ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی ا یہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: