خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 777
خطبات طاہر جلد 17 777 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء معاملہ میں کنجوس ہوتے تھے۔اب اللہ تعالیٰ نے ہمارے دن پھیر دئے ہیں اور اب ہم پر سچائی کا روشن سورج طلوع ہو چکا ہے۔اب ہم نے دیکھا ہے کہ ہم جو خرچ کرتے ہیں اللہ بڑھا چڑھا کر ہمیں دیتا ہے۔ہمارے اموال میں برکت ڈالتا ہے ہماری مصیبتیں دور فرماتا ہے۔ہمارے کئی قسم کے دُکھ جن میں مبتلا ہو سکتے تھے ابتلا سے پہلے ہی دور فرما دیتا ہے۔تو چندوں کی برکت سے اس طرح آگاہ کرنا جیسے عمو نا سیکرٹری مال آگاہ نہیں کیا کرتے۔وہ تو صرف یہ بتاتے ہیں کہ آپ کا رجسٹر میں نام نہیں لکھا ہوا مگر صاحب تجربہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس نصیحت کو پہلے باندھ لیں۔اپنے بھائیوں کو چندہ سے باخبر کرو۔ہر ایک کمزور بھائی کو بھی چندہ میں شامل کرو۔( یہ ساری جماعت کا کام ہے ) یہ موقع ہاتھ آنے کا نہیں۔( آئندہ ہاتھ سے چلا جائے گا ) کیسا یہ زمانہ برکت کا ہے کہ کسی سے جانیں مانگی نہیں جاتیں اور یہ زمانہ جانوں کے دینے کا نہیں بلکہ فقط مالوں کے بقدر استطاعت خرچ کرنے کا ہے۔“ الحکم جلد 7 نمبر 25 صفحہ : 8 مؤرخہ 10 جولائی 1903ء) یہ جو آخری اقتباس کا حصہ ہے یہ بھی کچھ وضاحت طلب ہے۔میں نے کہا تھا نا کہ اس آیت کریمہ میں پہلے مالوں کا ذکر ہے تو مال تو مانگے جا رہے ہیں مگر بعد میں آنفس کا بھی ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیوں فرما رہے ہیں کہ آنفس نہیں مانگے جارہے؟ دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے اقتباسات میں یہ وضاحت فرما دی ہے کہ مال خرچ کرو اور مال صرف وہی نہیں جو تمہارا صندوقوں میں بند ہو یا بینکوں میں جمع ہو۔مال کے وسیع تر مضمون میں تمہاری جان تمہاری صلاحیتیں، دماغی ہوں یا روحانی قلبی ہوں وہ ساری مراد ہیں لیکن جو فرمارہے ہیں جانیں نہیں مانگی جارہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جب کہ واضح طور پر جانوں کے جہاد کے لئے بلایا جاتا تھا اس سے فرق ہے۔اب جانیں قربان تو کرتے ہو مگر اس لئے نہیں کہ تم جانی جہاد کی طرف بلائے جا رہے ہو۔دُنیا کے کسی بھی ملک میں جماعت احمدیہ کو یہ ہدایت نہیں دی جارہی کہ تلواریں اٹھاؤ اور لڑنا شروع کر دو۔اگر اس راہ میں اس طرح قربان ہوتے تو اس کو آنفُس کی وہ قربانی کہتے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش نظر ہے مگر دینی جہاد کر رہے ہوں جہاں تلوار نہیں اٹھار ہے لیکن جانیں پھر بھی جارہی ہیں ان کی نفی مراد نہیں ہے۔ایسی اطلاعیں تو آئے دن