خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 776 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 776

خطبات طاہر جلد 17 776 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء ہمیشہ نور کو دیکھتے رہیں وہ سایوں کی وجہ سے نور سے کیسے بھاگ سکتے ہیں۔بدظنی کرنے والے وہ لوگ ہیں جو بعض امور میں سایہ دیکھیں تو نو ر ہی کو چھوڑ دیں اور اس سے پیچھے ہٹ کر دور بھاگ جائیں وہ لوگ ہیں جو پھر ہمیشہ ظلمت میں ڈال دئے جائیں گے۔یہ آخری تنبیہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمائی ہے۔”جو شخص وہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔پھر ایسی ظلمت سے نکلنا اس کے بس میں نہیں۔چونکہ اب وقت تھوڑا ہے اور اگر میں اقتباسات کو پڑھتا ہوں تو تحریک جدید کی جور پورٹ پیش کرنی ہے وہ رپورٹ شاید پوری پیش نہ ہو سکے اس لئے بہتر ہے کہ اب میں رپورٹ پڑھنی شروع کر دوں۔ایک اقتباس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آخر پر میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ایک اقتباس الحکم جلد 7 نمبر 25 صفحہ 8 پر درج ہے وہ میں آپ کے سامنے ضرور رکھنا چاہتا ہوں۔فرمایا: وپس میں تم میں سے ہر ایک کو جو حاضر یا غا ئب ہے تاکید کرتا ہوں۔“ اس زمانہ میں حاضر کو تاکید تو ممکن تھی غائب کو تاکید کیسے ہوئی۔وہ غائب تک بات پہنچاتے ہونگے تو پہنچتی ہوگی مگر یہ زمانہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ آگیا ہے کہ ہر حاضر بھی میرے مخاطب ہے اور ہر غائب جو میری نظروں سے تو غائب ہے مگر دور بیٹھے مجھے دیکھ رہا ہے، مجھے سن رہا ہے میں اس سے غائب نہیں ہوں۔تو وہ غائب جو میری باتیں سن رہا ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے ان باتوں کو بیان کرتے ہوئے وہ سب مخاطب ہیں۔فرمایا: میں تم میں سے ہر ایک کو جو حاضر یا غائب ہے تاکید کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو چندہ سے باخبر کرو۔“ یہ ایک عظیم تحریک ہے جسے ہمیں ہمیشہ جاری کرنا چاہئے جس کے متعلق ہم بسا اوقات غفلت کر جاتے ہیں۔لوگ خود چندہ دے دیتے ہیں اور چندوں سے آگاہ کرنے کا کام سیکرٹری مال یا سیکرٹری تحریک جدید وغیرہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔یہ ایک روز مرہ کی عادت بنانی چاہئے۔اپنی بیوی بچوں کو ہی نہیں بلکہ اپنے دوستوں وغیرہ کو بتاتے رہا کریں کہ دیکھو یہ تحریک چلی ہے کیا تم شامل ہو اور اپنے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ان کو سکھایا کریں کہ ہمارا بھی تو ایک یہ حال تھا ہم کسی وقت میں چندوں کے