خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 766
خطبات طاہر جلد 17 766 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء زندگی ہی میں دیکھ لیتا ہے اور بسا اوقات انجام کے وقت اس کو وہ دردناک عذاب دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ بہت سے لوگ جنہوں نے روپے جوڑے اور عمر بھر اپنے خزانے بھرے جب موت کے قریب پہنچتے ہیں تو اس درد سے تڑپتے ہیں کہ ان کا انجام نیک نہیں ہوا۔کچھ بھی انہوں نے اپنے لئے آگے نہیں بھیجا۔بسا اوقات ان کی اولادیں جن کو وہ پیچھے چھوڑ کے جار ہے ہوتے ہیں ان کی زندگی ہی میں ایک درد ناک عذاب کے لئے ان کو تیار کر رہی ہوتی ہیں، زندگی میں اس طرح تیار کرتی ہیں کہ زندگی بھر وہ ان کا رخ دیکھتے ہیں کہ ان کا رخ دُنیا کی طرف ہو چکا ہے اور اپنے اموال کو خرچ کرنے میں وہ گندے مصارف اختیار کر چکے ہیں، ایسے مصارف جن سے نظر آ رہا ہے کہ جو کمائی انہوں نے محنت سے کی تھی ان کی اولادوں نے آگے ضائع کر دینی ہے۔بہت سے لوگ ہیں جن کو یہ خطرہ درپیش ہوتا ہے اور نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اب یہ اولا دیں ہاتھ سے نکلی جارہی ہیں۔جو کچھ ہم نے کما یا سب کچھ ضائع کر دیں گی۔یہ دردناک عذاب کی تیاری ہے جو زندگی بھر ہوتی رہتی ہے ، موت کے وقت اس کا آخری انجام دکھائی دیتا ہے ہم نے تو اپنی اولادوں پر جو کچھ بھی خرچ کیا ضائع کر دیا، جو کچھ ان کے لئے پیچھے چھوڑیں گے وہ ان کو اور بھی زیادہ برباد کرے گا۔تو درد ناک عذاب سے مراد صرف یہی نہیں کہ آخرت میں ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔وہ تو ہوگا ہی لیکن اس دُنیا میں بھی وہ درد ناک عذاب کا مزہ چکھ لیں گے لیکن وہ مستقلی ہیں ، کون مستقلی ہیں؟ جو پاک طریقوں پر خدا کے سکھائے ہوئے اسلوب تجارت کو اختیار کرتے ہوئے ایسی تجارتیں کرتے ہیں جن میں کوئی گند کی ملونی نہیں ہوتی۔جو کچھ ان کو ملتا ہے پھر وہ اللہ ہی کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں یعنی جس حد تک توفیق ہے وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔آنفُس کا خرچ بھی خدا کی راہ میں کرنا ضروری ہے یعنی جانوں کے خرچ سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسانی جانوں کو جو کچھ بھی عطا کیا ہے وہ اسی کی راہ میں خرچ کرنا چاہئے مگر یہاں اموال کو پہلے مذکور فرمایا گیا اس لئے کہ وہ دور ایسا ہے جس میں مالی قربانی بھی نفسوں کی پاکیزگی کا موجب بنے والی تھی اور ایک قسم کی ایک پیشگوئی ہے کہ وہ لوگ جو مالی قربانیاں کریں گے ان کے نفوس ان کی مالی قربانیوں کے نتیجہ میں پاک ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دن بدن وہ پاک سے پاک تر ہوتے چلے جائیں گے اور اس کے نتیجے میں پھر وہ اپنے نفس بھی یعنی وہ تمام طاقتیں جو خدا نے ان کو بخشی ہیں وہ بھی خدا کی راہ میں خرچ کریں گے یعنی