خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 758
خطبات طاہر جلد 17 758 خطبہ جمعہ 30 اکتوبر 1998ء کما لیا، کامیاب ہو گئے وہ کیونکہ جہاں بھی مجھے شکایت ملتی ہے دینی اصولوں کو نظر انداز کر کے بعض جرائم کا ارتکاب کرنے والی بچیاں ساری وہ ہیں جن کی آنکھیں حیا سے خالی ہوتی ہیں، جن کے دلوں میں حیا نے جھانکا نہیں ہوتا۔ حیا کرتی ہیں ماں باپ کی آنکھ سے کچھ عرصہ تک اور جب سوسائٹی میں باہر جاتی ہیں تو پھر کوئی آنکھ ان کو نہیں دیکھ رہی ان کے نزدیک گویا خدا ہے ہی نہیں لیکن ماں باپ نے اگر بچپن ہی سے سچی حیا ان کے دل میں پیدا کی ہوتی اور اللہ کے حوالے سے حیا پیدا کی ہوتی تو ایسی بچیاں کبھی ضارا ما ضائع نہیں ہوسکتیں، ناممکن ہے۔ جہاں ہے۔ جہاں بھی جاتی ہیں اللہ ان کے ساتھ ساتھ جاتا ہے اور خدا کے حاضر اور غائب ہونے کا ایک یہ بھی مضمون ہے جسے آپ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ آنحضرت صلی اللہ السلام نے فرمایا : ایک مومن بعض دفعہ ایک بدی کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے اور بڑی سخت بدی ہوتی ہے اس وقت وہ مومن نہیں رہتا ۔ (صحیح البخاری، کتاب المظالم ، باب النهبی بغیر اذن ۔۔ ، حدیث نمبر : 2475) یہ کیا مطلب ہے کہ اس وقت نہیں رہا پھر ہو گیا ؟ اصل میں مومن کی جو تعریف قرآن کریم نے فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان لا ایمان لاتے ہیں - يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (البقرة : 4) اس لئے مومن نہیں رہتے کہ غیب یعنی اللہ کی ذات جو دکھائی نہیں دے رہی اس پر ایمان نہیں لاتے پورا ۔ اس لئے فرمایا اس لمحہ جب وہ بدی کا ارتکاب کر رہے ہوں وہ مومن نہیں رہتے ۔ اللہ تعالیٰ غیب تو ہے لیکن ایک ایسا غیب ہے جو دکھائی نہ دینے کے باوجو د ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ جو بھی انسان بدی کرتا ہے جنب الله (الزمر:57) میں کرتا ہے، اللہ کے پہلو میں کرتا ہے۔ اگر وہ غیب پر ایمان سچا رکھتا ہو تو سچے غیب پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ دکھائی نہ دینے کے باوجود وہ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے اور اگر اس پہلو سے مومن غیب پر ایمان لائیں تو کسی بدی کا ارتکاب کر ہی نہیں سکتے ۔ اس کے باوجود آنحضور صلی ا یہ کام سے بہتر اور کون جانتا تھا کہ بہت بڑے بڑے نیک اور متقیوں سے بھی بعض دفعہ غلطیاں ہو جاتی ہیں اور توبہ کے بعد پھر بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں کیا وہ مومن نہیں ہوتے؟ فرمایا اس وقت مومن نہیں ہوتے کیونکہ اس وقت وہ خدا سے غائب ہو جاتے ہیں ۔ یہ بھی ایک غیب ہی کا مضمون ہے جیسے کبوتر آنکھیں بند کر لیتا ہے اسی طرح وہ گویا خطرے سے آنکھیں بند کرتے ہیں اور جب خدا یاد آتا ہے یعنی آتا ہوگا بعضوں کو تو اس وقت لازم ہے کہ ان کے گناہ کی لذت میں خلل واقع ہو۔ ان کے گناہ کی لذت ہی خدا کو اپنے سے دور رکھنے سے پیدا ہوتی ہے اور جب خدا قریب آ جائے اور وہ لذت جاتی رہے تو صاف