خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 65
خطبات طاہر جلد 17 65 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء اتارنے کی کوشش کریں اور یہ غور کریں کہ لا الہ کن معنوں میں ہے تو اتنا عظیم الشان جہان توحید کا آپ پر ظاہر ہوگا کہ آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ توحید کا یہ معنی بھی ہے، یہ معنی بھی ہے، یہ معنی بھی ہے۔ اس میں کسی بیرونی بنانے والے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر شخص اپنی توحید کو خود جانچ سکتا ہے اور ہر شخص کی توحید جانچنے کا مقام الگ ا کا مقام الگ الگ ہے کیونکہ توحید میں کوتاہی ہر شخص کی ایک ہی جیسے مضمون میں نہیں ہوا کرتی الگ الگ مضامین میں ہوتی ہے۔ کسی کی توحید پر ایک شخص کے لحاظ سے ایک نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کی توحید کو ایک خطرہ ہے اس کے بعض گناہوں سے یعنی وہ توحید اس کے دل میں چچ نہیں سکتی ، نافذ نہیں ہو سکتی جب تک وہ خصوصی گناہ جو توحید سے متصادم ہیں وہ دور نہ ہوں۔ اب اس کے متعلق عمومی طور پر بیان کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ ناممکن ہے کہ مجھے علم ہو کہ ہر دل میں توحید کے خلاف کون سابت بیٹھا ہوا ہے جس کو توڑ نا ضروری ہے۔ آنحضرت صلی ایتم کی اس نصیحت کو اپنا لیں تو ہر دل کا فیصلہ اپنا ہوگا اور ہر انسان کو بہت ) انسان کو بہت دکھائی دینے لگیں گے اور جتنی دفعہ آپ لا اله الا اللہ کہیں گے ایک نیابت آپ کے سامنے ظاہر ہو گا جس کا توڑ نا آپ پر فرض ہے۔ پس اس سے بہتر اور کوئی ورد نہیں ہو سکتا کہ لا الہ الا اللہ کا وردان معنوں میں کیا جائے ۔ دوسرا تکبیر ہے جب اللہ کے سوا کوئی نہ رہا ایک وہی تو ہے تو پھر اس کی عظمتوں اور بڑائیوں میں ڈوب کر دیکھیں کہ آپ نے جو پایا ہے وہ بہت زیادہ پایا ہے اس کی نسبت جو آپ نے کھویا ہے۔ جو کھویا ہے چند چھوٹے بت تھے جو دنیا کی حرصیں تھیں ایک مادہ پرستی کا عالم تھا جس میں آپ زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس کو چھوڑا ہے تو کچھ ملا بھی تو ہے۔ جب لا إلهَ إِلَّا الله کہتے ہیں تو دماغ میں آتا ہے کہ ہم نے چھوڑا نہیں اللہ کو پایا ہے۔ پھر اللہ ہے کیا۔ جب اللہ پر غور کریں گے تو اللہ اکبر دل سے بلند ہوگا ۔ اتنا عظیم الشان وجود ہم نے پالیا اس سے بڑا وجود ہو ہی نہیں سکتا۔ ہر اچھی بات میں سب سے بڑھ کر، ہر عظمت میں سب سے بڑھ کر ہے، ہر طاقت میں سب سے بڑھ کر ہے۔ غرض یہ که لا اله الا اللہ کا سفر آپ کو ایک ورد میں منتقل کر دے گا جو اللہ اسی بر کا ورد ہے۔ الحَمدُ للہ پھر ان معنوں میں پڑھنی ضروری ہے کہ اسی کا احسان ہے، اسی کی حمد کے ہم گیت گاتے ہیں کہ اس نے ہمیں یہ توفیق بخشی اور آئی تو میں جب آپ نے سفر کیا اس کی بڑائی میں، تو یہ محسوس کیا کہ اس کی بڑائی میں حمد کے سوا تھا ہی کچھ نہیں ۔ لا الہ نے سُبحان کا معنی پہلے ہی پیدا کر دیا تھا۔