خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 757
خطبات طاہر جلد 17 757 خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء اب جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ رشوت خور کا چہرہ آپ نے دیکھا ہے اور ایسا ہی بدکاروں کا ، ظالموں کا چہرہ دیکھا ہوا ہے کتنا بھیانک چہرہ ہو جاتا ہے۔کبھی بھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نقوش بڑے اچھے ہیں، اس کی آنکھیں خوبصورت ہیں، اس کا ناک متوازن ہے ، اس کے ہونٹ ، اس کے گال ، اس کی گردن ، اس کا جسم جتنا وہ بظاہر خوبصورت ہوگا اتنا ہی بھیا نک اور بدصورت دکھائی دے گا۔یہی حال فاحشہ عورتوں کا ہوا کرتا ہے۔فاحشہ عورتوں کا جو ظاہری حسن ہے اس کے ظاہر کو جتنا چاہیں آپ متوازن قرار دے لیں ان کے چہرے سے جو ہولناک ایک کراہت پیدا ہوتی ہے ان کے چہرے پر نظر ڈالنے سے کوئی ظاہری حسن اس کراہت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ان کی آنکھیں حیا سے خالی ، ان کے چہرے کے آثار حیا سے خالی اور اس کے نتیجہ میں حسن کو بے حیائی ایسا بگاڑ دیتی ہے کہ وہ بد زیب، بدصورتی بن جاتا ہے بعینہ یہی مرکزی تعریف آنحضرت مسلم نے فرمائی ہے حیا زینت بخشتی ہے اور بے حیائی حسن کو اجاڑ دیتی ہے۔اس پہلو کو مدنظر رکھ کے ایک ایسے شریف النفس انسان کا بھی تصور کریں خواہ وہ کوئی بھی ہوا گر وہ نیکو کار ہے اور ان معاملات میں جس میں اس پر اعتماد کیا گیا ہے دیانتداری سے کام لیتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ مومن ہی ہو کسی بھی دین سے تعلق رکھتا ہو یا بظاہر بے دین بھی ہو اس کو حیا اس تصور سے نہیں آتی کہ میں کیوں برا کام کروں۔اس کے اندر سے ایک دیکھنے والا پیدا ہو جاتا ہے اور جس طرح مومن کو خدا دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس سے حیا کرتا ہے ایسا شخص خود اپنے ضمیر سے حیا کرتا ہے اور حیا ضرور کرتا ہے اور دیکھیں اس کا چہرہ کیسا صاف ستھرا دکھائی دیتا ہے۔ایسے افسروں سے آپ کو کئی دفعہ ملنے کا اتفاق ہوتا ہوگا ان کے چہرہ پر شرافت لکھی جاتی ہے ان کے چہرے میں ایک حسن دکھائی دیتا ہے جس کو آپ بیان نہ بھی کر سکیں بظاہر، بدصورت بھی ہوں تو وہ کشش والے چہرے ہیں جو آپ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔تو حیا بد زیبی ، بدصورتی کو بھی خوبصورت بنا دیتی ہے اور بے حیائی خوبصورتی کو بھی بدزیب بنادیتی ہے، مکر وہ بنا دیتی ہے۔یہ ہیں آنحضرت صلی ای ایم کے پر معارف کلمات ، ایک چھوٹے سے کلمہ میں دیکھیں کتنے مضامین کو اکٹھا ایک مالا کی طرح پرو دیا ہے۔اب یہ جو حیا کا مضمون ہے اس کو جماعت احمدیہ کو خصوصیت سے پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ہمارے ہاں جس ماحول میں بچیاں پل رہی ہیں ان کو اگر ماں باپ صرف حیا پر قائم کر دیں تو سب کچھ