خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 756
خطبات طاہر جلد 17 756 غیر کو یا رب ! وہ کیونکر منع گستاخی کرے؟ خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے (مرزا اسد اللہ خاں غالب) بعض دفعہ اپنی حیا سے بھی آدمی شرما جاتا ہے اور یہ اپنی حیا سے شرما جانا یہ وہ مضمون ہے جو اس حدیث ,, کے بنیادی مضمون میں داخل ہے۔الْحَيَاء خَيْرُ كُلُهُ " (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب شعب الایمان،حدیث نمبر : 157) تمام تر بہتر ہے۔اور جو حیا سے شرماتا ہے اس کے اندر ایک نیا حسن پیدا ہو جاتا ہے۔اب دیکھیں حیا نہ ہو تو چہرے کے نقوش کیسے بھی خوبصورت ہوں ان میں حسن باقی نہیں رہتا۔اس کی مثالیں آپ دیکھ سکتے ہیں کئی طریقے سے۔سب سے پہلے تو رشوت خور کا چہرہ آپ نے دیکھا ہوگا بددیانتی سے مال کمانے والے کا چہرہ دیکھا ہوگا، ظلم کرنے والے کا چہرہ دیکھا ہوگا ، لوگوں کے حقوق غصب کرنے والے کا چہرہ دیکھا ہو گا، اس کے نقوش بظاہر کیسے ہی متوازن کیوں نہ ہوں ان میں کوئی حسن باقی نہیں رہتا وہ بظاہر متوازن نقوش بھیانک ہو جاتے ہیں۔اس پر نظر ڈالنے سے طبیعت میں کراہت محسوس ہوتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس کو میں حیا کیوں کہہ رہا ہوں؟ اس لئے کہ آنحضرت صلی یہ تم نے جو حیا کی تعریف کا مرکزی نکتہ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان خدا سے شرمائے اور خدا سے ان کاموں میں شرمائے جن کاموں میں وہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ دیکھ رہا ہو کہ میں یہ کر رہا ہوں ساری دیانت داری اور نیکو کاری کا راز اس بات میں ہے۔اب دیکھیں بچے بعض حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں ، ماں باپ آجا ئیں تو کیسے ٹھیک ٹھاک ہو کے بیٹھ جاتے ہیں۔یہ حیا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ماں باپ ان حرکتوں کو پسند نہیں کریں گے اور وہ ماں باپ کی شرم رکھتے ہیں۔تو ایک مومن جو جانتا ہے کہ خدا کی ہمیشہ اس پر نظر ہے وہ کیوں نہ حیا سے کام لے اور جب وہ اللہ کی حیا نہیں رکھتا تو پھر دُنیا کی بھی حیا اٹھ جاتی ہے، کسی چیز کی حیا باقی نہیں رہتی۔جن مغربی قوموں کا میں نے ذکر کیا تھا ان کی یہی مصیبت ہے، یہی وبال ہے ان کا کہ اللہ کی حیا اٹھ گئی ہے تو پھر رفتہ رفتہ دنیا کی حیا اٹھتی چلی جارہی ہے ان کا جو نقاب اٹھ رہا ہے اس کی کوئی انتہا نہیں سوائے اس کے کہ اپنا سب کچھ گند باہر کر دیں اور پھر خود اس سے متنفر ہو کے بھا گیں۔اور یہ دوسرا دور بھی کسی حد تک شروع ہو چکا ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ حیا کا بدی فسق و فجور سے تعلق ہے کہ جب حیا نہ ہو تو بدی اور فسق و فجور نے لازماً ایسے دل پر قبضہ کر لینا ہے جو حیا سے خالی ہے۔