خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد 17 64 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء فرمائی ہے وہ ایک ہے تہلیل - تہلیل سے مراد ہے لا إله إلا الله، دوسرے تکبیر اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، تیسرے تحمید، الْحَمْدُ للهِ الْحَمْدُ للهِ - (مسند احمد بن حنبل، مسند عبدالله بن عمر طه ، حدیث نمبر :5446) تو یہ تین سادہ سے ذکر ہیں جو بآسانی ہر شخص کو توفیق ہے کہ ان پر زور ڈالے۔ توفیق اس لئے کہ ان اذکار کا سب کو علم ہے۔ بہت گیا گزرا مسلمان بھی ہو تو وہ یہ تین باتیں ضرور جانتا ہے۔ لا اله الا الله، اللهُ أَكْبَرُ اور الْحَمْدُ لله ہر گلی میں آپ کو جگہ جگہ الْحَمْدُ لِلهِ الْحَمْدُ لِلہ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ پس یہ وہ تین اذکار ہیں جن کو یاد کرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ سب کو یاد ہیں لیکن یاد نہیں بھی یعنی ان کے معنوں میں ڈوب کر یہ ذکر نہیں کئے جاتے۔ جب حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی لا السلام فرماتے ہیں کہ ان ایام میں بکثرت یہ ذکر کیا کرو تو مراد ہے کہ کثرت کی وجہ سے شاید دل میں بات اُتر بھی جائے۔ جب آپ لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہیں تو ہر دوسرے خدا کی نفی کر رہے ہوتے ہیں ۔ اگر زبان سے ذکر ہے مگر دل میں ذکر نہیں ہے اگر دماغ اس ذکر کی پیروی نہیں کر رہا اور آپ کو بتا نہیں رہا کہ جب خدا کے سوا آپ کسی اور معبود کو تسلیم نہیں کرتے تو یہ دنیا کے معبودوں کے کیا جھگڑے بنا رکھے ہیں۔ کیوں بڑے لوگوں کی پیروی کرتے ہو، کیوں رزق کے ان ذرائع کی پیروی کرتے ہو جن کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رزق پیدا کرنے والا تو وہی ہے لیکن رزق کے قوانین بتانے والا بھی تو وہی ہے کہ کس رزق کو حاصل کرو، کس کو نہ کرو۔ پس لا إله إلا الله کا وردان دنوں میں جب ان معنوں میں ہو نہ تو اللہ تعالیٰ ایک نئی شان سے آپ کے دل پر طلوع ہوگا اور توحید کے ایسے ایسے مضامین آپ پر روشن ہوں گے جن کی طرف پہلے کبھی خواب و خیال میں بھی تو جہ نہیں گئی۔ پس عام طور پر لوگ ان حدیثوں کو سن کر یہ ورد شروع کر دیتے ہیں ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا الله ضربیں لگاتے ہیں اپنی طرف سے کہ ہر چوٹ پر ایک نئی معرفت نصیب ہو رہی ہے لیکن ایسے بھی ہیں جو ساری عمر ضر ہیں لگاتے رہے مگر ان کے دل میں کسی روشنی نے کوئی جگہ نہ پائی ۔ پس اپنی راتوں کو اس طرح زندہ کرو جیسے رسول اللہ صلی الا ال سلیم راتوں کو زندہ کیا کرتے تھے اور باقیوں کی راتیں بھی زندہ کیا کرتے تھے۔ تو جب یہ میں نے ذکر کیا ہے کہ آپ باقی راتوں کو بھی زندہ کیا کرتے تھے تو یہ مراد ہے کہ جو سادہ سے تین ذکر ہیں ان پر بھی اگر آپ غور کریں اور ذکر کرتے وقت اپنے دل میں