خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 63

خطبات طاہر جلد 17 63 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء غور کیا کریں کس کی بات کر رہا ہوں۔حضرت محمد رسول اللہ صلی یکی یمن کی ہر شب بیداری آپ کو صفات الہیہ کے شعور میں اور بھی زیادہ بیدار کر دیتی تھی۔پس حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ: ” جب رسول اللہ صلی یتیم آخری عشرہ میں داخل ہوتے تو کمر ہمت کس لیتے اپنی راتوں کو زندہ کرتے اور گھر والوں کو جگاتے۔“ (صحيح البخاري، كتاب فضل ليلة القدر ، باب العمل في العشر الأواخر من رمضان، حدیث نمبر :2024) اب دیکھیں وہی الفاظ ہیں جو بیداری کے لئے میں نے کہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں راتوں کو زندہ کرتے۔پہلے آپ صلی للہ اسلام کی راتیں مردہ ہوا کرتی تھیں؟ کوئی ایک رات آپ مالی پریتم کی زندگی میں ایسی نہیں تھی جس کو آپ مُردہ رات کہہ سکیں لیکن رمضان کے اواخر میں، ہر رمضان میں ان زندہ راتوں کو اور بھی زندہ کرتے تھے اور گھر والوں کو جگاتے“۔اب گھر والوں کو جگانا ایک جسمانی فعل بھی تو ہے اور یہ کیا کرتے تھے۔یہ ہم سب پر فرض ہے کہ ان دنوں میں خاص طور پر اپنے اہل وعیال، اپنے بچوں، بیوی وغیرہ کو تعلیم دیں کہ رمضان کے حق ادا کرنے کے لئے جا گا کر ولیکن آنحضرت سلا می ایستم جب گھر والوں کو بیدار کرتے تھے تو میں سمجھتا ہوں رمضان کے معارف کے سلسلہ میں ضرور ان کو نئے معارف عطا فر ماتے ہوں گے۔اب اس پہلو سے جس طرح رسول اللہ صلی شما یہ تم راتوں کو زندہ کیا کرتے تھے ، اپنے اہل وعیال کی زندگی میں بھی وہ نئی زندگی بھر دیا کرتے تھے۔ایک حدیث مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للہ سلم نے فرمایا: د عمل کے لحاظ سے ان دس دنوں یعنی آخری عشرہ سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے نزدیک عظمت والے اور محبوب اور کوئی دن نہیں ہیں۔“ عمل کے لحاظ سے جو ان دنوں میں برکت ہے ایسے اور کسی عشرہ اور کسی اور دن میں برکت نہیں ہے۔پس مبارک ہو کہ ابھی کچھ دن باقی ہیں اور یہ برکتیں کلیہ ہمیں وداع کہہ کر چلی نہیں گئیں۔آپ ان کا استقبال کریں تو آپ کے گھر اتر کر ٹھہر بھی سکتی ہیں اور یہی حقیقی نیکی کا مفہوم ہے۔نیکی وہ جو آ کر ٹھہر جائے اور پھر رخصت نہ ہو۔ان ایام میں خصوصیت سے رسول اللہ صلی یہ تم نے جس ذکر الہی کی تاکید