خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 737
خطبات طاہر جلد 17 737 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء اب یہ دوسری آیت کریمہ ہے جس کا حیا سے تعلق ہے۔اس مضمون کو بھی تفصیل سے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ حیا کیا ہوتی ہے؟ اور کبھی اللہ حیا کرتا ہے یعنی اللہ بھی حیا کرتا ہے اور کبھی اللہ حیا نہیں کرتا۔کبھی رسول بھی دیا کرتا ہے اور کبھی رسول حیا نہیں کرتا۔تو حیا کے کون سے مواقع ہیں اور حیا نہ کرنے کے کون سے مواقع ہیں۔اس ضمن میں جو حیا والی آیت اس وقت میرے سامنے ہے وہ میں پڑھوں گا تو سہی مگر اس کی تفصیل سے تشریح کی ضرورت نہیں کیونکہ اس آیت کریمہ سے متعلق میں نے اپنی کتاب Revelation میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور ایک پور المباChapter ،ایک باب اس پر وقف ہے۔پس وہ لوگ جن کو انگریزی آتی ہے وہ وہاں سے اس کا مطالعہ کر لیں۔تو اس آیت کے معنی کہ خدا کیوں نہیں شرماتا، جبکہ دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ کے شرمانے کا بکثرت ذکر ملتا ہے۔تو انسان کو بھی وہاں نہیں شرمانا چاہئے جہاں خدا کی شان ہے کہ نہیں شرمانا اور جہاں شرمانے کا حق ہے وہاں ضرور شرمانا چاہئے۔یہ شرمانے کا مضمون کہاں آپ پر لازم ہے اور کہاں لازم ہے کہ نہ شرما ئیں۔یہ آئندہ ایک دو خطبات کا موضوع ہوگا۔وہ آیت کریمہ یہ ہے۔انَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيَ أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ وَ اَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَا ذَا أَرَادَ اللهُ بِهَذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۖ وَمَا يُضِلُّ بِهَ إِلَّا (البقرة: 27) الْفُسِقِينَ - یقینا اللہ نہیں شرماتا کہ ایک مچھر کی مثال بیان فرمائے فَمَا فَوْقَهَا اور اس کی جو اس پر ہے۔فَوْقَهَا کا ایک معنی تو اکثر آپ تراجم میں پڑھتے ہوں گے یہ وہ معنی ہیں جو اس آیت کی گہرائی میں اترنے کے لئے سمجھنے ضروری ہیں ورنہ اس کے فوق پہ ہی رہیں گے اور اس کے اندر نہیں اتر سکیں گے۔ما بَعُوضَةً فما فوقها مچھر کے اوپر کیا ہے؟ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے کہ مچھر کے علاوہ اس سے کم تر مثال۔حالانکہ فوقها کا یہ مطلب نہیں ہے۔میں نے مختلف اہل لغت جو بڑے ائمہ لغت ہیں ان کا مطالعہ کر کے دیکھا ہے حضرت امام راغب اس مضمون پر خوب کھل کے روشنی ڈالتے ہیں کہ فوقھا کا معنی ہے جو اس پر چڑھا ہوا ہے، اور زمین کی مثال، پہاڑوں کی مثالیں یہ ساری مثالیں دے کر واضح فرماتے ہیں کہ فوقها کا اصل مطلب یہ ہے کہ جو مچھر پر ہے۔(مفردات الفاظ القرآن از العلامة الراغب الأصفهاني، زير لفظ فوق)