خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد 17 736 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء اب یہ دو باتیں بظاہر تضا د رکھتی ہیں ایک جگہ فرمایا کہ ایک قطرہ بھی جہنم کو حرام کرنے کے لئے کافی ہے اور ساتھ ہی فرمایا: ”پس انسان اس سے دھوکا نہ کھائے کہ میں بہت روتا ہوں۔“ فرمایا جس قطرہ کی میں بات کر رہا ہوں وہ محض آنکھ سے گرنے والا آنسوؤں کا قطرہ نہیں اس کی کچھ اور صفات ہیں جو دل سے تعلق رکھتی ہیں اور کیوں اٹھا دل سے؟ اس مضمون کو سمجھنے کی ضرورت ہے ورنہ آنسوؤں سے گرنے والے قطروں کی تو بہت باتیں ہو چکی ہیں۔وہ آنسوؤں سے گرنے والے قطرے جہنم سے نجات دینے کے لئے کافی نہیں ہیں حالانکہ ان میں بہت سے آنسو ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو تکلف کے بغیر دل سے اٹھے ہوئے ہوں۔ان آنسوؤں میں اور اس آنسو کے قطرے میں کیا فرق ہے؟ وہ فرق یہ ہے: اس کی خشیت کا غلبہ دل پر ہو اور اس میں ایک رفت اور گدازش پیدا ہو کر خدا کے لئے ایک قطرہ بھی آنکھ سے نکلے۔‘ جب خشیت کا غلبہ دل میں ہو تو اس سے مراد دائمی غلبہ ہے۔ایک ایسا وقت آ جائے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی خشیت دل پر غالب آچکی ہو اور جب ایک دفعہ وہ خشیت غالب آجائے تو پھر اس کی واپسی ممکن نہیں ہوا کرتی اور ایسی زندگی انسان کو خود بتاتی ہے کہ اس میں بعض اوقات ایک قطرہ وہ تبدیلی پیدا کر دیتا ہے جو اس کے دل سے اٹھنے والی موسلا دھار بارشیں نہ کر سکیں۔تو اس قطرہ کی تلاش رکھنی چاہئے جو ایسی خشیت کے نتیجہ میں ہو جو آ کر ٹھہر جایا کرتی ہے۔پھر دل کا یہ موسم بدلا نہیں کرتا کیونکہ اللہ کا خوف اس کی عظمت کو پہچاننے کے نتیجے میں دل پر طاری ہوتا ہے۔فرماتے ہیں اگر ایسا نہیں کرو گے تو روتے روتے آنکھیں دکھا لو گے اس سے زیادہ تو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کے حضور اس کی خشیت سے متاثر ہوکر رونا دوزخ کو حرام کر دیتا ہے لیکن یہ گریہ و بکا نصیب نہیں ہوتا جب تک کہ خدا کو خدا اور اُس کے رسول کو رسول نہ سمجھے اور اس کی سچی کتاب پر اطلاع نہ ہو۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ: 272، 1273 الحکم جلد 5 نمبر 10 صفحہ:2 مؤرخہ 17 مارچ 1901ء) تو یہ جو ساری باتیں ہیں آخری فقرہ کی وہ میں پہلے خطبات میں بیان کر چکا ہوں اس لئے اس آیت کریمہ سے متعلق جو میں نے آپ کو نصیحتیں کرنی تھیں وہ اس آخری فقرہ پر مکمل کرتا ہوں۔