خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 735

خطبات طاہر جلد 17 735 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء اندازہ کر لیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہاں کمالات اسلام کی بات کرتے ہیں اس کے لئے آئینہ دکھاتے ہیں تو ان کمالات کو سمجھنے کے لئے انسان کو کچھ نہ کچھ صاحب کمال بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔جتنا وہ صاحب کمال بننے میں کوتاہی کرے گا اتنا ہی اس آئینہ میں کم جلوہ دیکھے گا۔آئینہ تو گندہ نہیں ہے مگر نظر دھندلائی ہوئی ہے۔پس بعض دفعہ تو آئینہ دیکھنے میں اس لئے شکل خراب آتی ہے کہ آئینہ دھندلا یا ہوا ہوتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو آئینہ دکھایا ہے کمالات اسلام کا اس میں کوئی بھی کسی قسم کا عیب نہیں ، کوئی دھندلاہٹ نہیں مگر دیکھنے والے نظریں مختلف رکھتے ہیں۔بعض لوگ بے چارے جو کسی آنکھ کی بیماری کا شکار ہوں بعض دفعہ بالکل آئینہ قریب کر کے دیکھتے ہیں اور بمشکل ان کو دکھائی دیتا ہے کہ نقص کیا ہیں یا جمال ہے تو کیا ہے۔تو آپ کو بھی آئینہ کمالات اسلام کا مطالعہ کرتے وقت اسی طرح گہرائی سے اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔اب یہ آخری اقتباس جو میں نے اس مضمون میں چنا ہے وہ ملفوظات جلد اول جدید ایڈیشن سے لیا گیا ہے۔آنسو کا ایک قطرہ بھی دوزخ کو حرام کر دیتا ہے۔“ اب اس سے پہلے آپ نے ان موٹے موٹے قطروں کی باتیں سنی ہیں جو ہر وقت موسلا دھار بارش کی طرح برس رہے ہوتے ہیں اور ایک قطرہ وہ بھی ہے جو اکیلا ہی اس بات کے لئے کافی ہے کہ اس قطرہ ٹپکانے والے پر جہنم حرام ہو جائے۔وہ کیا قطرہ ہے ، کیسی صورت میں وہ قطرہ گرتا ہے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہاں اگر اللہ کی عظمت و جبروت اور اس کی خشیت کا غلبہ دل پر ہو۔(اور یہ ساری پہلی با تیں اسی تعلق میں بیان ہو چکی ہیں یہ غلبہ کیسے ہوتا ہے ) اس کی خشیت کا غلبہ دل پر ہو اور اس میں ایک رقت اور گدازش پیدا ہو کر خدا کے لئے ایک قطرہ بھی آنکھ سے نکلے تو وہ یقیناً دوزخ حرام کر دیتا ہے۔پس انسان اس سے دھوکا نہ کھائے کہ میں بہت روتا ہوں۔اس کا فائدہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ آنکھ دیکھنے آجائے گی اور یوں امراض چشم میں مبتلا ہو جائے گا۔“