خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 733
خطبات طاہر جلد 17 733 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء چاہیں تو کہیں گے اس کے حسن سے ہم متاثر ہیں۔اور اس کے ساتھ جب جمال کا لفظ بولتے ہیں تو ظاہری حسن جو اُس میں ہوتا ہے اُس کے لئے جمال کا لفظ استعمال کر کے اسے حسن سے زرا الگ کر دیتے ہیں کہ ظاہر میں بھی خوبصورت، باطن میں بھی خوبصورت ، اس کا اندر باہر خوبصورت ہے، اس کا ظاہر بھی ، اس کا چھپا ہوا بھی سب خوبصورت ہے۔تو فرمایا : ”اور احسان اور حسن و جمال پر علم کامل رکھتے ہیں۔علم کامل کون رکھتے ہیں جو ڈرتے ہیں اور جو ڈرتے ہیں وہ تب ہی ڈرتے ہیں کہ علم کامل رکھتے ہیں ورنہ علم کامل نہ ہونے کے نتیجہ میں خوف بھی کم ہوتا چلا جاتا ہے۔جتناعلم ناقص ہوا تنا خوف کم ہوتا جاتا ہے۔اب آپ دیکھ لیں کسی چیز کے گزند سے آپ پوری طرح واقف نہ ہوں، یہ پتا ہو کہ یہ کھانے میں ذرا بدمزہ ہے لیکن یہ علم نہ ہو کہ یہ بدمزہ زہر ہے جو آپ کو ہلاک بھی کر سکتا ہے تو بعض دفعہ یونہی چکھنے کے لئے آپ منہ مار بھی دیتے ہیں۔تو فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خشیت کا تعلق، اس کے ساتھ خوف کا تعلق علم کو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پکڑ کے اتنے رستے ہیں، ایسے ایسے رستوں سے وہ آتا ہے اور گھیر لیتا ہے کہ انسان کا تصور بھی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔تو وہ خدا کے کامل بندے جن کو علم ہو کہ اللہ کی شان کیا ہے، جو اس کی قدر پہچانتے ہوں اور اس کی قدر پہچاننے کے لئے قرآن کریم نے اتنا کثرت سے اس مضمون کو کھول کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ کوئی بھی عذر انسان کے پاس باقی نہیں رہا۔تو فرماتے ہیں : ” اور حسن و جمال پر علم کامل رکھتے ہیں۔“ کامل کا لفظ جو فرمایا ہے یہ اس لئے فرمایا ہے کیونکہ ان ڈرنے والوں کا ذکر ہے جو کامل ڈرنے والے ہیں۔جب ڈرنے والے کامل ہوں توحسن و جمال بھی کامل ہونا چاہئے۔اگر ڈرنے والے ناقص ہوں تو حسن و جمال کا علم بھی ناقص ہوگا۔یہ لازم ملزوم ہیں۔” خشیت اور اسلام در حقیقت اپنے مفہوم کی رو سے ایک ہی چیز ہے کیونکہ کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔“ جو لازم ملزوم کا میں نے محاورہ بولا تھا یہی وہ لفظ ہے مستلزم جو اس کو ظاہر فرما رہا ہے۔اسلام بھی خشیت ہی کا دوسرا نام ہے۔اسلام ہی علم کامل کا دوسرا نام ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام علم کامل کا دوسرا نام کیسے ہو گیا یہ مفہوم غور کرنے اور سمجھنے کے لائق ہے۔اسلام کا عام معنی تو یہی ہے کہ ہم نے تسلیم کر لیا، اس کے سامنے اپنا سرخم کرد یا اور اسلام کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کسی کو سلامتی کا پیغام دیا کہ ہماری طرف سے تمہیں سلامتی پہنچے گی اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کی رضا سے راضی