خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 732
خطبات طاہر جلد 17 732 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء ہر وقت اور ہرلمحہ کہ وہ اپنی قدرت کے کاروبار دکھا تار ہے اور قدرت کی رونمائی اس طرح کرتا رہے کہ ہمیں نہ بھی علم ہو تو ہم سے بے نیاز وہ اپنی قدرت کے جلوے دکھا رہا ہے۔جتنی کائنات میں وسعت ہے اس کی طرف عظمت نے اشارہ فرما دیا یعنی عظیم کائنات ہے یا اس کی مخلوقات عظیم ہیں اور ان سب میں اس کی قدرت کی جلوہ نمائی ہے خواہ ہمیں اس جلوہ نمائی کا علم ہو یا نہ ہو۔اور احسان اور حسن دو باتیں اس کائنات پر نظر ڈالنے سے یقینی طور پر علم میں آتی ہیں۔ایک تو یہ کہ جو بھی قدرت نمائی اس نے فرمائی ہے، جو بھی تخلیق کی ہے اس میں احسان سے کام لیا ہے۔”احسان کسی غریب پر، کسی بے بس پر رحم کرنے کے نتیجہ میں جو سلوک آپ اس سے کرتے ہیں اس کو کہتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی کیا ہم سب کے لئے وہ بطور احسان کے کیا ہے نہ کہ ہمارا اُس پر حق تھا اور یہ احسان کائنات کے ذرہ ذرہ میں دکھائی دیتا ہے۔اس مادہ میں بھی دکھائی دیتا ہے جس مادہ میں ہم سمجھتے ہیں کہ احساس کی طاقت نہیں ہے۔وہ نہیں سمجھتا کہ میں کیسے اس احسان کا شکر یہ ادا کروں مگر قرآن کریم کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مادہ میں بھی ایک احساس کا مادہ ضرور ہے۔وہ ایسا مادہ ہے جسے ہم سمجھ نہیں سکتے مگر اللہ تعالیٰ سمجھتا ہے اور کوئی احسان بھی اس کا ایسا نہیں کہ جس پر ہو اس کو اس کا احساس نہ ہو۔یہ بھی ایک عجیب قدرت نمائی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق احسان اور حسن، احسان تو ہے اُس مادہ پر، اُس شخص پر ، اُس ذات پر جس کو اُس نے عظیم قدرت سے پیدا فرمایا اور اُس احسان کو دیکھنے کے لئے ہمیں اُس میں ایک حسن بھی دکھائی دیتا ہے۔پس وہ جو صرف دیکھ رہے ہیں ، دوسروں کو دیکھ رہے ہیں وہ غور کریں تو اللہ تعالیٰ کی ہر صنعت میں ایک حسن ہے اور وہ حسن نظروں کو چندھیا دینے والا حسن ہے اور جمال بھی ہے، حسن اور جمال۔حسن در اصل فطرت کے اندر جو گوندھی ہوئی خصلتوں کی خوبصورتی ہے زیادہ تر اس کو حسن کہتے ہیں لیکن حسن ظاہر میں بھی ، نقوش میں بھی دکھائی دیتا ہے مگر اگر زیادہ احتیاط سے لفظ بولے جائیں تو جو ظاہری خوبصورتی رکھتا ہے اس کو جمال کہتے ہیں۔تو جب آپ کسی شخص کی تعریف کریں کہ اُس کے حسن و جمال سے ہم بہت متاثر ہیں تو مراد یہ ہے کہ صرف ظاہری دکھائی دینے والے حسن سے نہیں بلکہ اُس کی فطرت کے حسن سے، اُس کی عادات کے حسن سے ، اُس کی بول چال سے، اُس کے ذہن اور دل کی قوتوں سے۔ان سب پر لفظ حسن چھایا ہوا ہے ، ان سب سے ہم متاثر ہیں جب ہم یہ کہنا