خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 730
خطبات طاہر جلد 17 730 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء پس یہ قوت طبعیہ جس کے نتیجہ میں دل حرکت میں آتے ہیں اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔یہ دونوں صورتوں میں ہمیں جلوہ گر دکھائی دیتی ہیں۔بدوں کی صورتوں میں بھی اور نیکوں کی صورتوں میں بھی لیکن ان کی پہچان الگ الگ ہے اور سب سے زیادہ وہ شخص خود جانتا ہے جس کے دل سے ذکر الہی کے وقت محبت جوش مارتی ہے اور آنکھوں سے برستی ہے یانہ بھی برسے تو زور اتنا مارتی ہے کہ گویا برس ہی جائے گی۔تو اس پہلو سے اپنے دلوں کو ٹولتے رہنا چاہئے کہ کیا ہمارے دل واقعہ ایسے ہی ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ گو یا اللہ کی رضا کی نگاہیں ہر وقت ان پر پڑتی ہوں۔ایک اور اقتباس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا میں نے ملفوظات جلد 5 صفحہ 59 سے لیا ہے یعنی جدید ایڈیشن میں یہ صفحہ درج ہے۔آپ فرماتے ہیں: 66 ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہوا وہ آنحضرت صلی یا پی ایم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو کہ مکہ کی گلیوں میں خدا تعالیٰ کے آگے رورو کر آپ نے مانگیں۔“ اب گلیوں میں رو رو کر مانگیں۔ایک تو اس سے آپ صلی ال ایتم کی دردناک کیفیت کا اظہار ہوتا ہے، ایسی دردناک کیفیت کہ اسے اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندے کے تعلق میں نظر انداز کر ہی نہیں سکتا تھا۔دوسرے گلیوں میں رونا تو بظاہر دکھاوے کی علامت ہوتی ہے مگر کچھ لوگ دکھاوے بھی کرتے ہیں اور کچھ بے اختیار ہو کے روتے ہیں۔پس آنحضرت صلی یتیم کی یہ دوسری قسم کی مثال ہے کہ پ صلی الہی تم بے اختیار ہو کر روتے تھے اور اس کا نتیجہ کیا ہوا خدا تعالیٰ کے آگے رو رو کر دعائیں جو آپ مسی یہ کہ تم نے مانگیں۔ر جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دُنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا وہ سب آنحضرت صلی یتیم کی دعاؤں کا اثر تھا۔ورنہ صحابہ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہ رضوان اللہ علیہم کے پاس صرف تین تلواریں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ :59 / بدر جلد : 2 نمبر :37 صفحہ :4 مؤرخہ 13 ستمبر 1906ء)