خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 718
خطبات طاہر جلد 17 718 خطبہ جمعہ 16 اکتوبر 1998ء اب سوال یہ ہے کہ وہ آنسو جو ایک دردناک واقعہ کے نتیجہ میں پھوٹتے ہیں کیا وہ خشیت کا نشان ہیں، کیا اس کو خشوع و خضوع کی علامت سمجھا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ یہ مضمون بہت باریک اور بڑی محنت سے نتھار نے والا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ معرکہ فرمایا کہ اس مضمون کے مختلف پہلو کھول کھول کر بیان کر کے واعظین کے لئے بھی اور ہر کس و ناکس کے لئے اس مضمون کو ایسا کھول دیا ہے کہ پھر اس میں کسی قسم کے اشتباہ کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔اب دیکھیں کئی لوگ جانتے ہیں کہ قصہ پڑھ رہے ہیں اور وہ قصہ دردناک ہوتا ہے۔اس قصے پر بعض دفعہ لوگ بلک بلک کر روتے ہیں، بعض بچے جب کوئی درد ناک کہانی پڑھتے ہیں تو اتنا روتے ہیں کہ ان کی کتاب ہاتھ سے گر جاتی ہے اور روتے روتے سو بھی جاتے ہیں۔اب اس کو خشوع و خضوع تو نہیں کہہ سکتے۔اگر چہ خشوع و خضوع کے مشابہ معنی ضرور ہیں مگر یہ خشوع و خضوع نہیں ہے اس کے نتیجے میں ان کو کوئی جزاء نہیں دی جائے گی ، کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔یہ دراصل نفس کی ایک حالت ہے جس سے لطف محسوس ہوتا ہے۔جو دل کا درد ہے جب وہ آنکھوں سے ابل پڑے تو ایک سکون ملتا ہے اور آنسو بھی اس لحاظ سے رحمت ہیں اور آنحضرت سی ایسی تم نے انہیں رحمت ہی قرار دیا اور وہ بدنصیب بد و جو سمجھتے تھے کہ آنکھ کی سختی یہ مردانگی کی علامت ہے اور رونا ایک زنانہ نشان ہے۔آنحضرت صل للہ ایک لیم جب خود رو پڑتے تھے تو اگر چہ رونا ان معنوں میں تھا جن معنوں میں میں خشوع و خضوع کی اب بات کر رہا ہوں بہت گہرا اور حقیقی عرفان پر مبنی ہوا کرتا تھا مگر آنسوؤں کو آپ سی ایم نے بہر حال رحمت قرار دیا ہے سمجھانے کی خاطر کہ جس کو اللہ کی رحمت ہی نصیب نہیں ہوئی اس کی آنکھیں خشک ہیں اس کے لئے میں کیا کرسکتا ہوں۔پس یہ رونے کی صلاحیت کے اعتبار سے دردناک واقعات کو پڑھ کر آپ یہ تو معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ کے اندر صلاحیت ہے کہ نہیں مگر اس سے زیادہ نتیجہ نہیں نکال سکتے۔کچھ ایسے بدنصیب ہوتے ہیں جیسے عرب کے بدو جن کے متعلق میں نے بیان کیا ہے کہ اُن کی آنکھیں پتھر کی طرح ہوا کرتی تھیں جتنا مرضی دردناک واقعہ ہو جائے ، پڑھیں یا سنا ئیں اُن کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہیں آئے گا۔اس لئے کہ وہ ان چیزوں سے بالکل بے تعلق ہوتے ہیں اور رونے کا ایک تعلق کے ساتھ تعلق ہے۔جب آپ قصہ پڑھتے ہیں تو فرضی کردار ہی صحیح لیکن وقتی طور پر انسان ایک make-belief کے طور پر یعنی بغیر شعور کے از خود اس پر یقین کرنے لگ جاتا ہے۔اور ایک دفعہ ایک بچے کو میں نے