خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 717
خطبات طاہر جلد 17 717 خطبہ جمعہ 16 اکتوبر 1998ء پہنچ کر ختم ہو جایا کرتی ہیں مثلاً ہمالہ ہے تو ہمالیہ پہاڑ کی آخری چوٹی ہے وہاں پہنچ کر انسان کہہ سکتا ہے کہ میں نے سب کچھ پالیا لیکن جو اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کی طرف رخ ہے اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کتنی بڑی بلندی ہے جس کی طرف ہم نے چڑھنا ہے۔تو اگر ہمالہ کی چوٹی تک جاتے جاتے انسان جان جوکھوں میں ڈالتا ہے، طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہوتا ہے اور کئی قسم کے خطرات مول لیتا ہے۔قدم پھسل جائے تو وہ ترقی کی بجائے تنزل کا گڑھا اس کا مقدر بن جاتا ہے جس سے پھر کبھی نکل نہیں سکتا، یعنی موت واقع ہو جاتی ہے۔یہ سارے مضامین ہیں جو رحیمیت اور رحمانیت کے موازنہ کو آپ پر کھولتے ہیں اور یہی موازنہ ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس تحریر میں فرما رہے ہیں۔جو کچھ خدا نے زمین و آسمان وغیرہ انسان کے لئے بنائے یا خود انسان کو بنایا یہ سب فیض رحمانیت سے ظہور میں آیا لیکن جب کوئی فیض کسی عمل اور عبادت اور مجاہدہ اور ریاضت کے عوض میں ہو وہ رحیمیت کا فیض کہلاتا ہے۔یہی سنت اللہ بنی آدم کے لئے جاری ہے۔( یعنی کوئی بنی آدم اس سے مستثنی نہیں ہے ) پس جبکہ انسان نماز اور یاد الہی میں خشوع کی حالت اختیار کرتا ہے تب اپنے تئیں رحیمیت کے فیضان کے لئے مستعد بناتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ: 189) یہ جو خشوع ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض تنبیہات بھی فرمائی ہیں یہ میں ابھی آپ کے سامنے پیش کروں گا کیونکہ خشوع کے مضمون کو سمجھنے میں بعض دفعہ رقت ایک دقت پیدا کر دیتی ہے۔اب واقعات خواہ دینی ہوں یا دنیاوی ہوں اللہ کا ذکر جب آپ کریں اور اس رنگ میں ذکر ہو اس کے بندوں سے سلوک کا کہ وہ رنگ اپنی ذات میں درد ناک رنگ ہو یا حضرت اقدس محمد مصطفی اسلام کا ذکر کریں اور وہ ذکر ایسا ہو کہ اس کو پڑھتے ہوئے بے اختیار انسان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جا ئیں اور بیان کرتے وقت اور بھی مشکل ہو جاتی ہے پڑھتے وقت تو انسان کچھ ضبط کر سکتا ہے مگر وہی دردناک واقعہ اگر بیان کرے تو بڑی مشکل پیش آتی ہے۔