خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 716
خطبات طاہر جلد 17 " 716 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء یادر ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا فیضان بغیر توسط کسی عمل کے ہو تو وہ رحمانیت کی صفت سے 66 ہوتا ہے۔" رحمانیت میں عمل کا توسط کوئی نہیں ہے۔جب انسان تھا ہی نہیں اس وقت رحمن نے اس کو پیدا فرمایا، تمام انعامات اس پر کئے جبکہ کوئی مانگنے والا نہیں تھا لیکن ایک دفعہ جو انعام فرما دئے ان کا حساب بھی ہوگا اور پھر اگر اس رحمانیت کے تعلق کو کوئی برقرار رکھنا چاہے تو رحیمیت کی صفت کو ملحوظ رکھے بغیر ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔” جب خدا تعالیٰ کا فیضان بغیر توسط کسی عمل کے ہو تو وہ رحمانیت کی صفت سے ہوتا ہے جیسا کہ جو کچھ خدا نے زمین و آسمان وغیرہ انسان کے لئے بنائے یا خود انسان کو بنایا یہ سب فیض رحمانیت سے ظہور میں آیا لیکن جب کوئی فیض کسی عمل اور عبادت اور مجاہدہ اور ریاضت کے عوض میں ہو وہ رحیمیت کا فیض کہلاتا ہے۔“ جس خدا سے آئے ہیں اس کی طرف واپسی کا سفر شروع ہو گیا ہے، بہت دور نکل جاتے ہیں اس سے، رحمانیت کے تعلق کو بھول جاتے ہیں اور اس دُنیا میں بہت دور تک بھٹک جاتے ہیں پھر اس کی طرف جو واپسی شروع ہوتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے پہاڑ سے اترنے کے بعد پھر چڑھائی شروع ہو جائے۔پہلے جو پہاڑ کی چوٹیاں نصیب تھیں وہ فضل کے طور پر تھیں ہر کس و ناکس میں یہ طاقت نہیں تھی کہ اس بلند پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ سکے جو رحمانیت کے ساتھ انسان کو متعارف کراتا ہے۔مسلسل نزول ہے انسان کا، رحمانیت سے چلتے ہوئے وہ آخر اس کھڈ تک پہنچ جاتا ہے جس سے آگے پھر نیچے جا ناممکن نہیں ہوا کرتا پھر وہ جن کو بلند چوٹیاں دکھائی دیں اور اچھی اور پیاری لگیں ان کے دل میں ایک بے تاب تمنا بیدار ہوگی کہ واپس ان چوٹیوں کی طرف سفر شروع کریں۔یہ مشکل سفر ہے، یہ محنت طلب سفر ہے اس میں صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد مانگنا ضروری ہے ورنہ جن لوگوں کو یہ تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ کوئی کہیں کھڑا ہو جاتا ہے، کوئی کہیں کھڑا ہو جاتا ہے، چڑھتے چڑھتے انتظار کرتا رہتا ہے کہ اب یہ چوٹی سر ہو گئی لیکن اس کے اوپر اور بھی چوٹیاں ہوتی ہیں وہ سر کرتے کرتے پھر انسان سمجھتا ہے کہ اب میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں جو سب سے بلند و بالا ہے او پر پھر ایک اور چوٹی دکھائی دیتی ہے۔یہ چوٹیاں جو دنیاوی پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں یہ تو بعض دفعہ پہاڑوں میں ایک مقام تک